عمران خان کی گرفتاری کیلیے رینجرز اور پولیس زمان پارک کے باہر موجود، صورت حال کشیدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کی گرفتاری کے لیے رینجرز اور پولیس گذشتہ رات سے زمان پارک کے باہر موجود ہے جہاں صورت حال بدستور کشیدہ ہے، پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کئی زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے درجنوں کارکنان کو بھی گرفتار کر لیا۔

صوبائی دارلحکومت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس کے ہمراہ لاہور پولیس کی بھاری نفری بھی عمران خان کے گھر کے باہر ہے، پولیس نے زمان پارک جانے والے تمام راستے بند کردیے۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشن اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری بکتر بند گاڑی اور پولیس ٹیم کے ہمراہ آئے ہیں۔

پہلے سے موجود وہاں کارکنوں نے گرفتاری کے خلاف مزاحمت کی تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس نے واٹر کینن گاڑیاں بھی طلب کیں جن سے کارکنوں پر پانی پھینکا گیا جب کہ مزاحمت کرتے ہوئے کارکنوں ںے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

دوسری جانب کارکنان کی بڑی تعداد زمان پارک پہنچی ہوئی ہے اور پولیس کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے ہوئے ہیں اور شدید نعرے بازی کررہے ہیں تاہم پولیس انہیں کامیاب ہونے نہیں دے رہی۔

پولیس کی زمان پارک کی جانب پیش قدمی جاری ہے، پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری ڈھال اور دیگر آلات کے ساتھ کارکنوں کو مسلسل دھکیلتے ہوئے آگے کی جانب رواں دواں ہے۔ پولیس نے کارکنوں کے بیس کیمپ اکھاڑ دیے۔

پولیس کے دو افسران نے گرفتاری کا نوٹس وصول کروانے کے لیے ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں۔ پلے کارڈز پر نوٹس وصول کروانے کے حوالے سے تحریر موجود ہے۔

’عدالتی کارروائی ہے، پولیس آپریشن نہیں‘

ادھر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا ’’کہ زمان پارک میں لوگوں کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا جا رہا ہے حالانکہ پولیس صرف عدالتی وارنٹ پر عملدرآمد کی خواہاں ہے۔‘‘

’عمران خان صاحب کو گرفتار کرنے کی پالیسی یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا جانی نقصان نہ ہو کسی بھی شخص کو چوٹ نہ لگے۔ یہ ایک سادہ سا طریقہ ہے جس پر روزانہ عمل در آمد ہوتا ہے۔‘

آئی جی پنجاب پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ بھی سڑکیں بلاک کرتے ہوئے دہشت گردی میں ملوث ہیں یا سوشل میڈیا کا استعمال کر کے یہ سب کام کر رہے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جائے گی ان کو گرفتار بھی کیا جائے گا۔

آئی جی پنجاب پولیس نے بڑی تعداد میں پولیس نفری زمان پارک بھیجنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے۔ ’ ہمارا یہ موقف ہے کہ قانون کی نظر میں بڑا چھوٹا سب برابر ہے۔‘

ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی اسلام آباد کی درخواست پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کے لیے لاہور پولیس کی 300 سے زائد پولیس نفری بھیجی گئی۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق زمان پارک پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سارا معاملہ سمجھایا گیا مگر انہوں نے پتھراؤ کیا اور ڈنڈے مارے۔ پیٹرول بم اور پتھراؤ کے نتیجے میں ڈی آئی جی سے لے کر کانسٹیبل تک 27لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

آئی جی پنجاب کے مطابق عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے میں اگر لوگوں کو اکسایا جائے گا، حملے کیے جائیں گے تو پھر پولیس کو ایکشن کرنا پڑے گا۔وہ لوگ نہ صرف ہم پر پتھراؤ کر رہے ہیں بلکہ ڈنڈے برسا رہے ہیں۔

’اگر کسی کا دعوٰی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے تو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔یہ ایک عدالتی کارروائی ہے پولیس آپریشن نہیں۔ سوشل میڈیا کو اگر آپ استعمال کر کے پولیس پر حملے کر کے دہشت گردی کے لئے استعمال کریں گے تو اس ملک کا کیا ہو گا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں