وارنٹ معطلی،عدالت کا عمران خان کا بیان حلفی جمع کرانے کا حکم،فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان تحریک انصاف [پی ٹی آئی] کے چیئرمین عمران خان کےناقابل ضمانت گرفتاری معطل کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی طرف سے دی گئی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے نمٹا دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر فاروق نے درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے عمران خان کا بیان حلفی ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ بیان حلفی کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے۔

پانچ صفحات پرمحیط فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین اور درخواست گذار ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں۔ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے۔ فیصلہ آنے کے بعد پوری صورت حال اور پیش رفت ٹرائل کورٹ کے سامنے رکھی جانی چاہئیں۔

پی ٹی آئی کی طرف سے سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ چیف جسٹس اسلام آبا ہائی کورٹ جسٹس عمر فاروق نے آج ہی اس درخواست پرغور کرنے کا کہا تھا۔

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ایک کیس کی سماعت ختم ہونے پراچانک روسٹروم پرآگئے۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی توآپ کی درخواست فیکس نہیں ہوئی۔مقرر ہوئی تودیکھوں گا۔ عدالت نے پہلے بھی ریلیف دیا تھا اس کا کیا ہوا؟

تحریک انصاف کے وکیل خواجہ حارث نےعمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست کیس کی فائل سمیت فائل کورٹ روم نمبر ایک ہمیں پہنچ گئی۔ اس موقعے پر بات کررتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عامرفاروق نے کہا ہے کہ یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ آپ کی درخواست پر قانون کیا کہتا ہے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں