عمران خان عدالت میں پیش، گرفتاری وارنٹ منسوخ، سماعت ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیش ہوگئے۔ عدالت نے مختصرسماعت میں پی ٹی آئی قاید کے گرفتاری وارنٹ منسوخ کرتے ہوئے کیس کی سماعت تیس مارچ تک ملوتی کردی ہے۔

ضلعی عدالت نے عمران خان سے کہا ہے کہ وہ 30 مارچ کو خود حاضری ہوں تاہم ان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کریں گے۔

توشہ خان کیس کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے فاضل جج ظفراقبال نے کہا کہ 30 مارچ کو مقدمہ قابل سماعت ہونے پر دلائل دیئے جائیں گے۔

خیال رہے کہ عدالت میں پیشی کے وقت عمران خان کی حاضری کی دستاویزکے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔ عدالت کے استفسار پرمعلوم ہوا کہ عمران خان اور پولیس دونوں کے وکلا میں سے کسی کے پاس ان کی حاضری دستاویز موجود نہیں۔ اس پر عدالت نے حیرت کا اظہار کیا۔

قبل ازیں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پرہنگامی آرائی اور اندر داخل ہونے میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیشی کے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے تھے۔

جوڈیشل کمپلیکس کےگیٹ پرہنگامہ آرائی اور پتھراؤ کے بعد عمران خان واپس سری نگر ہوائی وے کی طرف چلے گئے۔ پی ٹی آئی رہ نما فرخ حبیب کے مطابق عمران خان جوڈیشل کیمپلیکس میں اپنی حاضری لگوانے کی کوشش کرتے رہے مگرانہیں حاضری لگانے کا موقع نہیں مل سکا جس کے بعد وہ اپنی حاضری کے بغیر ہی واپس چلے گئے۔

اس دوران ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال اور عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے درمیان مکالمہ بھی جاری رہا۔ فاضل جج نے کہا کہ عمران خان کا کیس ایف ایٹ کچہری میں ہی سنیں گے۔ عدالت نے عمران خان کی گیٹ پر حاضری کی درخواست منظور کرتے ہوئے حاضری فارم گیٹ پر بھجوا دیا۔

قبل ازیں پی ٹی آئی وکیل بابراعوان نے عدالتی عملے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب کو پیغام دیں کہ عمران خان پرشیلنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ عمران خان پر فرد جرم عاید ہونی چاہیے یا نہیں؟ اس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ آج توممکن نہیں کہ بحث ہو، بحث کی تاریخ بھی مقرر کرلیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں