جوڈیشل کمپلیکس میں مجھے جان سے مارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا: عمران خان

میرے تمام مقدمات کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے: چیف جسٹس سے درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں انہیں جان سے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم اللہ نے انہیں قتل کی سازش سے بچایا۔

لاہور سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک میں انتشار پھیلنے کی ان لوگوں کو کوئی فکر نہیں کیوں کہ نواز شریف اور آصف زرداری کا تو سب کچھ باہر ہے اس لیے میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ میرے تمام کیسز کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔

’’مجھے جوڈیشل کمپلیکس میں ٹریپ کیا گیا اور قتل کی سازش کی گئی مگر اللہ نے مجھے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کیسز کا مقصد مجھے یہاں سے نکال کر قتل کرنا ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ تاہم میں وارننگ دیتا ہوں کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو قتل کیا جاتا ہے تو ملک میں فساد برپا ہو گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ میں نے عدالت میں جانے کا وعدہ کیا تھا مگرحکومت نے ہمارے ساتھ جو کیا ایسا تاریخ میں نہیں ہوا۔ ٹول پلازے پر مجھے روکا گیا۔ایک لین کے سوا باقی سب راستے بند کر دیے گئے۔ مجھے پلازے سے جوڈیشل کمپلیکس تک ساڑھے چار گھنٹے لگے۔ ٹول پلازے پر ہمارے کارکن کم تھے، پتا نہیں لوگ کہاں سے آ گئے۔

عمران خان نے کہا کہ ٹول پلازہ پر ہمارے کارکنوں پر شیلنگ کرکے انہیں اشتعال دلایا گیا۔ آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں