مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا:عمران خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں حاضری کے وقت ’انہوں نے مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا تھا اور کہنا تھا کہ تصادم میں مارا گیا۔ یہ ان کا پلان تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے پتا چلا ہے مجھ پر جوڈیشل کمپلیکس کی عدالت میں نہ پہنچنے پر توہین عدالت کا کیس ہو رہا ہے۔ مُجھے راستے میں جگہ جگہ روکا گیا اور یہ چاہتے تھے میں اکیلا عدالت پہنچوں۔ لوگ خود نکل کر آ گئے۔ پولیس کی نفری بڑھتی گئی۔ ہمارے اوپر اشتعال دلوانے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔‘

عمران کان کا کہنا تھا کہ ’مجھے پلان معلوم ہوا تھا کہ شاید آج شام کو یہ آپریشن کریں۔ آئی جی پنجاب، آئی جی اسلام آباد اور پیچھے ان کے ہینڈلرز زمان پارک میں آپریشن کا پلان بنایا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’انہوں نے دو سکواڈز بنائے ہیں۔ ہمارے لوگوں کے اندر رہ کر چار پانچ پولیس والوں کو قتل کرنا ہے اور پھر حملہ کرنا ہے۔ فائرنگ کریں گے۔ ہمارے لوگوں کو ماریں گے اور پھر کرتے کرتے میرے گھر تک پہنچیں گے اور پھر مرتضیٰ بھٹو کی طرح مجھے قتل کریں گے۔‘

قومی اسمبلی کے اجلاس پر تبصرہ

تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان نے کہا ہے کہ ’قومی اسمبلی کے اجلاس میں وہی کوشش ہو گی جو اس ملک میں پہلے 1971 میں ہوئی تھی۔ ایک اقلیت یہ فیصلہ کرے گی کہ کسی طرح اکثریت کو دوڑ سے باہر کرے۔‘

’ان کی کوشش ہو گی کہ کسی طرح تحریک انصاف کو الیکشن نہ لڑنے دیا جائے یا انہیں الیکشن سے باہر کردیا جائے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام چاربجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا۔ اس سے پہلے یہ اجلاس 10 اپریل کو طلب کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں امن و امان اور دہشت گردی، اقتصادی پالیسی، جموں و کشمیر کا معاملہ، قومی اداروں کی تکریم، چین پاکستان اقتصادی راہداری، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور خارجہ پالیسی شامل ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کا عمران خان کے خلاف پولیس کارروائی روکنے کا حکم واپس

درایں اثناء آج بدھ کو لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات سامنے آنے پر ان کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔

بدھ کے روز کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے نیب اور شعبہ انسداد بدعنوانی کی طرف سے تفصیلات فراہم نہ کرنے پر ان اداروں کو عمران خان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکتے ہوئے 24 مارچ تک درج تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں اور قیادت پر پنجاب میں 78 جبکہ اسلام آباد میں 15 مقدمات درج ہیں۔ پی ٹی آئی پر مجموعی مقدمات کی تعداد 130 ہو چکی ہے۔

تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے کہا کہ ’آج ملک کی ایک چھوٹی اقلیت کی نمائندگی کرنے والے پارلیمان میں ملک کی بھاری اکثریت کے بارے میں فتوے جاری کیے جائیں گے۔ اکثریت کی رائے کو طاقت سے دبانے کی کوشش سے ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔‘

ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی ضمانت منسوخ کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور طارق شفیع کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی ایف آئی اے کی درخواست مسترد کردی۔

توہین عدالت کی درخواست پر عمران خان کو نوٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقعے پرعدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست پرعمران خان کو نوٹس جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ کی توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے کیس کو فائل گم شدگی کیس کے ساتھ منسلک کردیا۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے امن وامان کی صورت حال پیدا کرنے سے متعلق معاملے کی رپورٹ طلب کرلی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں