عمران خان نے اپنے خلاف مقدمات کو'سیاسی محرکات' پرمبنی قراردے کرمسترد کردیا

ملکی حالات ٹھیک کرنےکا واحد طریقہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کاانعقاد ہے:سابق وزیراعظم کی العربیہ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ’’العربیہ‘‘ کو ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے خلاف دائر مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد انھیں انتخابی دوڑ سے باہر رکھنا ہے۔

انھوں نے کہا:’’یہ سب سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات ہیں تاکہ مجھے انتخابی دوڑ سے باہر رکھا جا سکے‘‘۔ انھوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ (حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں) فکرمند ہیں کہ اگر ہم 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں جاتے ہیں تو وہ ہار جائیں گے۔

ان کے اس انٹرویو کی اشاعت کے دوران میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے صوبہ پنجاب میں 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات 8 اکتوبرتک ملتوی کردیے ہیں۔عمران خان اوران کی جماعت کے قائدین نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور اس کو الیکشن کمیشن کی آئین شکنی کے مترادف قرار دیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ عدالت کی سماعتوں میں شرکت سے بچنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔تاہم، انھوں نے واضح کیا کہ جب وہ پیش نہیں ہوئے تو یہ عمل یا تو نومبر میں ان کے خلاف قاتلانہ حملے میں لگنے والی چوٹوں یا پھر سکیورٹی خطرات کی وجہ سے تھا۔

عمران خان پنجاب کے شہر وزیر آباد میں ایک ریلی میں زخمی ہونے کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہونے تک چار ماہ تک گھر میں بند رہے ہیں۔انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ’’اس کے بعد سے ... میں ایک کے علاوہ ہر عدالت میں پیشی پر گیا ہوں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عدالت غیر محفوظ تھی‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت خود کہتی ہے کہ عمران کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، لیکن وہ انھیں تحفظ مہیّا نھیں کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب اسلام آباد میں عدالت کی سماعت دوسری جگہ، جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل ہوئی تو وہ وہاں گئے اور خود کو پیش کیا۔عمران خان نے اپنے اس الزام کا اعادہ کیا کہ حکومت انھیں مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے اپنی ٹانگ میں گولی لگنے کا الزام وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان اور پاک فوج کے میجر جنرل فیصل نصیر پر عاید کیا کہ وہ آئی ایس آئی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کی حکومت نے ان الزامات کو 'جھوٹ کا پلندا' قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

’’وہ کَہ رہے ہیں کہ کسی غیرملکی ایجنسی کی وجہ سے میری جان کو خطرہ لاحق ہے۔میں جانتا ہوں کہ یہ کوئی غیر ملکی ایجنسی نہیں ہے،یہ خود حکومت ہے جو مجھے مارنے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا۔

وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر رہتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرکاری تحائف فروخت کرنے کے الزامات کے بارے میں عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیاکہ ’’وہ بے قصور ہیں۔یہ ملک مجھے 50 سال سے جانتا ہے۔ میں نے ان 50 برسوں میں کبھی قانون نہیں توڑا‘‘۔

گذشتہ سال اپریل میں پارلیمان میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے محروم ہونے والے عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات سمیت متعدد مقدمات وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے ایماء پر درج کیے گئے ہیں اور یہ انھیں بدنام کرنے کی سازش ہیں۔

انھوں نے گذشتہ ہفتہ کے روز پولیس کے زمان پارک لاہور میں واقع ان کے گھر پردھاوا بولنے کے حالیہ اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ ملک نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کیونکہ ان کی اہلیہ وہاں اکیلی تھیں اور وہ خود عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کا حصہ بننے کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے۔

پولیس نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا تھا اوران کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔ ان کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران میں 61 افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

عمران خان نے وضاحت کی کہ پولیس انھیں گرفتار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ انھوں نے ضمانتی مچلکے جمع کرائے تھے کہ وہ 18 مارچ کو طے شدہ وقت کے مطابق عدالت کی سماعت میں شرکت کریں گے ۔

انھوں نے بتایا کہ ’’اگر آپ پولیس کو ضمانتی مچلکے دیتے ہیں کہ آپ مقررہ تاریخ پر عدالت میں حاضر ہوں گے تو پولیس آپ کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ میرے حامی گھر کے باہر میرا دفاع کرنے کے لیے آئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ قانونی نہیں ہے۔یہ اغوا تھا۔ وہ مجھےاغوا کرنے کے لیےآ رہے تھے، گرفتار کرنے کے لیے نہیں‘‘۔

یہ پوچھے جانے پر کہ ملک کے حالات کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟عمران خان نے کہا کہ ایسا کرنے کا واحد طریقہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو پاکستان کی تنظیم نو اور ہماری معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے درکار مشکل فیصلے کرے۔ اس سے نکلنے کا واحد راستہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔آپ جو بھی کریں گے، سیاسی عدم استحکام برقرار رہے گا اور اس کا مطلب ہے کہ معیشت ڈوبتی رہے گی‘‘۔

انھوں نے 2018 میں منعقدہ انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی اپنی حکومت کے کاموں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کووِڈ 19 کے باوجود اس نے معیشت کو تیز کیا ہے۔ انھوں نے اپریل 2022 میں اقتدار سے اپنی بے دخلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’پھر اس سازش نے ہماری حکومت کو ہٹا دیا، اور اس کے بعد سے، پاکستان کی معیشت زوال کی طرف جا رہی ہے۔

اس سوال پرکہ کیا انھیں سیاست کے میدان میں آنے پر افسوس ہے؟سابق کرکٹ اسٹار سے سیاست داں بننے والے عمران خان نے کہاکہ ’’میرے نزدیک سیاست کیریئر نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔میں نے اپنے ملک، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے سیاست میں قدم رکھا۔ یہی وہ نظریات تھے جن کے ساتھ میں 26 سال پہلے سیاست میں آیا تھا، اور میں اب بھی اسی راستے پر چل رہا ہوں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں