وزیر اعظم نے صدر کا خط ’پی ٹی آئی کی پریس ریلیز‘ قرار دے دیا

شہباز شریف نے صدر عارف علوی کو پانچ صفحات اور سات نکات پر مشتمل جوابی خط لکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر عارف علوی کو جوابی خط میں کہا ہے کہ آپ کا خط تحریک انصاف کی پریس ریلیز لگا، خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں۔ 3 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کی تحلیل کر کے غیر آئینی عمل کیا۔

پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

صدر علوی نے دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پرکیا جنہیں حکومت نے ہدایات دی تھیں، الیکشن کمیشن کا التوا توہین عدالت ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے جوابی خط میں کہا کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط تحریک انصاف کی پریس ریلیز لگا، خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے اور صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں۔

وزیر اعظم نے لکھا کہ، ’ خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، 3 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کی تحلیل کر کے غیر آئینی عمل کیا گیا، اسمبلی تحلیل کے حکم کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا۔

صدر کو جوابی خط 5 صفحات اور7 نکات پر مشتمل ہے، جس کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق ، ’ میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کئی مواقع پرآپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آ رہے ہیں ۔

شہباز شریف نے صدر سے مزید کہا کہ ، ’اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا، اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔‘

واضح رہے کہ صدر کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ آئین کے تحت وزیر اعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کا پابند ہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں