کیا الیکشن کو لمبے عرصے کیلئے التوا میں رکھا جاسکتا ہے؟ چیف جسٹس

حکومت اور پی ٹی آئی فیصلہ کر لیں پاکستان کے لیے کیا بہتر ہے: سپریم کورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ نے وفاق، الیکشن کمیشن اور گورنر خیبرپختونخوا کو نوٹسز جاری کر دیے۔

انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال بہت تشویش ناک ہے، حکومت اور پی ٹی آئی فیصلہ کر لیں پاکستان کے لیے کیا بہتر ہے ۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات ملتوی کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں ، الیکشن کی تاریخ میں توسیع غلط ہے، وجوہات بتائی جائیں؟

سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے سماعت کی، بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں، جسٹس امین الدین اورجسٹس جمال خان مندوخیل بھی بنچ کاحصہ ہیں۔

سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 3 بار خلاف ورزی کر کے ہیٹ ٹرک کی ہے، الیکشن کمیشن نے آئین، صدر اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن صدر مملکت کی تاریخ کو بدل سکتا ہے؟ عدالت نے کہاکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ کو بدل دیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود نہیں جن میں اس طرح الیکشن کی تاریخ تبدیل کی گئی ہو، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہم نے دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ بدلنے کا اختیار ہے یا نہیں؟

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ملکی تاریخ میں الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی مثالیں موجود ہیں، بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بھی الیکشن تاخیر سے ہوئے، انتحابات صوبے کے عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، اہم ایشوز اس کیس میں شامل ہیں جس میں سے فیصلے پر عملدرآمد بھی ایک معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت تاریخ بڑھانے کو قومی سطح پر قبول کیا گیا، اس وقت تاریخ بڑھانے کے معاملے کو کہیں چیلنج نہیں کیا گیا، 1988 میں نظام حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوئی۔

عدالت نے استفسار کیا کیا آپ سمجھتے ہیں، الیکشن کی تاریخ میں توسیع غلط ہے، وجوہات بتائی جائیں؟عمران خان کے وکیل علی ظفر نے کہاکہ یکم مارچ کو عدالت نے انتخابی تاریخ سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں، عدالت نے کم سے کم وقت میں انتخابات کا اعلان کرانے کی ہدایت کی تھی، 6ماہ تک الیکشن ملتوی کرنے کا تو حکم نہیں تھا، صدر نے پنجاب میں 30 اپریل کو انتخابات کی تاریخ دی۔

چیف جسٹس نے استفسارکیا کب شیڈول جاری ہوا تھا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ 8 مارچ کو الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے 3 بار خلاف ورزی کرکے ہیٹ ٹرک کی ہے،الیکشن کمیشن نے آئین، صدر اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔

سپریم کورٹ نےالیکشن کمیشن، وفاقی حکومت، پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیے، سماعت منگل دن 11بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں