چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات میں کمی کا بل کابینہ سے منظور، قومی اسمبلی میں پیش

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس لینے اور سپریم کورٹ کے بینچوں کی تشکیل کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے بل کی منظوری دے دی جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحات سے متعلق (سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023) قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عدالت عظمیٰ کی جانب سے اصل دائرہ اختیار کے استعمال کا موضوع مختلف فورمز پر زیر بحث تھا۔ ایک روز قبل، سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے اختیارات پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ ایک آدمی کے تنہا فیصلے پر انحصار نہیں کر سکتی۔

اسپیکر نے ارکین اسمبلی کی درخواست پر بل پر مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے قانون سازی کیلئے کل ہی کمیٹی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی، قومی اسمبلی اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین جج از خود نوٹس کا فیصلہ کریں گے، از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہوگا اور اپیل دائر ہونے کے چودہ روز کے اندر درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کرنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں