چیف جسٹس نے الیکشن اخراجات کے لیے تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دیدی

اگر انتخابات پر سارے وسائل خرچ ہو جائیں تب بھی کروانے چاہیئیں: عمر عطا بندیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے انتخابات کے لیے تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دے دی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، معاشی بحران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بحران سے نمٹنے کیلیے قربانی دینا ہوتی ہے۔ پانچ 5 فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی ،نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا فنڈز پارلیمنٹ کی منظوری سے خرچ ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسمبلی تحلیل ہو جائے تو کیا فنڈز جاری ہی نہیں ہو سکیں گے، فاروق ایچ نائیک نے کہا موجودہ کیس میں قومی اسمبلی موجود ہے، نئی اسمبلی اخراجات کی منظوری دیتی ہے، سیکریٹری خزانہ کے بیان کا جواب الیکشن کمیشن ہی دے گا۔

جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ منطور کردہ بجٹ سے ہٹ کر فنڈز کیسے دے سکتا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا یہ تکنیکی نقطہ ہے کہ پیسے کہاں سے آنے ہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کیلیے پوری بجٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے، 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جا سکتا ہے، حکومت اخراجات کم کر کے 20 ارب نکال سکتی ہے۔

ایبسلوٹلی ناٹ پر عدالت میں قہقہے

سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر دوران سماعت ایبسلوٹلی ناٹ کا تذکرہ چھڑ گیا، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایمرجنسی لگا کر الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں، کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایبسلوٹلی ناٹ تو آپ نے اصل میں کسی اور کو کہا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کے پی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے زیادہ آپریشن کئے۔ پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے۔ سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے۔ پنجاب کی صورتحال خیبرپختونخوا سے مختلف ہے۔ ترکیہ میں زلزلہ متاثرہ علاقوں کے علاوہ ہر جگہ الیکشن ہو رہے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی کہتا ہے کہ جہاں مسئلہ ہو وہاں پولنگ منسوخ ہو سکتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا پورا الیکشن ملتوی کر دیا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایمرجنسی لگا کر الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں، کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں الیکشن التواء کیس کے سلسلے میں اٹارنی جنرل نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب ہو گا فل کورٹ اس معاملے کو سنے۔

پنجاب اور کے پی میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کی، جس میں نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور سینیٹر فاروق نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے، پہلے اٹارنی جنرل کو سنیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سادہ سا سوال ہے، جو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا ہے، کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا اختیار تھا؟سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟۔ اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا، تو بات ختم ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا، جمہوریت کے لئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے۔اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے 2 ججز نے پہلے فیصلہ دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اِس وقت سوال فیصلے کا نہیں، الیکشن کمیشن کے اختیار کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیصلہ اگر 4، 3 کا ہوا تو حکم کا وجود ہی نہیں، جس کی خلاف ورزی ہوئی۔ عدالتی حکم نہیں تھا تو صدر مملکت تاریخ بھی نہیں دے سکتے تھے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کے عدالتی حکم کو پہلے طے کر لیا جائے۔ موجودہ کیس میں استدعا ہی فیصلے پر عملدرآمد کی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بینچ کے ارکان درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں۔ آپ کا انحصار تکنیکی نکتے پر ہے۔ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا۔ فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ درخواست کے قابل سماعت ہونے کا بھی نکتہ اٹھانا ہے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا فل کورٹ اس معاملے کو سنے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے،یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ بتائیں کہ کیا 90 روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت مقدمہ تاریخ دینے کا نہیں منسوخ کرنے کا ہے۔ جمہوریت کے لیے انتخابات ضروری ہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی بنیادوں پر معاملہ خراب نہ کریں۔ سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا ہے۔ اس معاملے کو دوبارہ اٹھا کر عدالت میں پیش نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا معاملہ اٹھانا ہے تو الگ سے درخواست دائر کریں۔ اس وقت مقدمہ تاریخ دینے نہیں منسوخ کرنے کا ہے۔ فیصلہ کتنی اکثریت کا ہے اس کا جائزہ بعد میں لیا جا سکتا ہے۔ فی الحال سنجیدہ معاملات سے توجہ نہ ہٹائی جائے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں۔ سینیٹر فاروق نائیک نے عدالت میں کہا کہ ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے۔ آئین زندہ دستاویز ہے،تشریح زمینی حالات ہی پر ہوسکتی ہے۔موجودہ حالات میں جمہوریت اور ملک کے لیے کیا بہتر ہے وہ تعین کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں سٹیک ہولڈرز ہیں، انہیں لازمی سنا جائے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ یہ سوال پارلیمنٹ میں کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟، جس پر فاروق نائیک نے جواب دیا کہ معاملہ پارلیمان میں اٹھانے کا بھی سوچ رہے ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ تمام قومی اداروں کا احترام لازمی ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اعلی قیادت سے بھی ایسے رویے کی توقع ہے۔ پہل تحریک انصاف کو کرنا ہوگی کیوں کہ عدالت میں وہ آئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے۔ معاشی حالات دیکھیں آٹے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ آپس میں دست و گریبان ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تو یہ بحران مزید بڑھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں