کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے معروف ماہر امراض چشم ہلاک

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا ڈاکٹر بیربل کے بہمیانہ قتل پر افسوس، قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان انسانی حقوق کمیشن ’’ایچ آر سی پی‘‘ نے کراچی میں معروف ماہر امراض چشم ڈاکٹر بیربل گینانی کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انجمن کے پریس ریلیز کے مطابق ایچ آر سی پی نے قتل کے واقعے کی شفاف تحقیقات کرانے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ سندھ میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کے قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں گزشتہ دنوں ڈاکٹر دھرم دیو راٹھی کو بھی قتل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق سینئر ڈائرکٹر ہیلتھ کے ایم سی اینڈ پبلک ہیلتھ ڈاکٹر بیربل لیاری ایکسپریس وے گارڈن انٹر چینج کے قریب گذشتہ روز قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ واقعے میں ڈاکٹر بیربل کی اسٹنٹ ڈاکٹر قرۃ العین زخمی ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر بیربل کون تھے؟

ڈاکٹر بیربل آئی اسپیشلسٹ تھے اور سابق سینیئر ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کےایم سی) تھے۔ ڈاکٹر بیربل گینانی اسپنسر آئی اسپتال لیاری کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ بھی رہے۔ وہ ڈیڑھ برس قبل ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ سٹی گورنمنٹ کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔

مقتول ڈاکٹر بیربل نے حال ہی میں اپنی بیٹی ڈاکٹر سپنا کے ساتھ ماسٹرز ان پبلک ہیلتھ کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بیربل گینانی کی ٹارگٹ کلنگ کی واردات ایسے مقام پر ہوئی جہاں دو تھانوں (گارڈن اور سولجر بازار پولیس اسٹیشن) کی حدود لگتی ہے۔


سی سی ٹی وی فوٹیج

گارڈن میں فائرنگ کے بعد کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ ویڈیو میں فائرنگ کے بعد ڈاکٹر بیربل کی کار کو بے قابو چلتے دیکھا جا سکتا ہے، اور گاڑی کچھ دیر چلنے کے بعد دیوار سے ٹکرا کر رک جاتی ہے۔ گاڑی رکنے کے بعد شہریوں کو گاڑی کے گرد جمع ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں