سپریم کورٹ کے حکم پرالیکشن کمیشن نے بڑا فیصلہ کرلیا

ای سی پی کی طرف سے بدھ کو جاری کیے گئے انتخابی شیڈول میں سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی ہدایات پر من وعن عمل کیا گیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں پولنگ چودہ مئی کو ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پنجاب میں چودہ مئی کوانتخابات کے انعقاد کے لیے شیڈول جاری کر دیا ہے۔

اسی سی پی کی طرف سے بدھ کے روز جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیلیں 10 اپریل تک دائر کی جا سکتی ہیں جبکہ امیدوار 19 اپریل تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔

امیدواروں کو 20 اپریل کو انتخابی نشان الاٹ کر دیے جائیں گے اور 14 مئی کو پولنگ ہو گی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ شیڈول سپریم کورٹ کے فیصلے کے صرف ایک دن بعد جاری کیا گیا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے نے عدالتی فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی۔

ن لیگی قیادت کا سخت ردعمل

مریم نواز شریف نے آج بروز بدھ راولپنڈی میں ن لیگ کے ایک وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کے سامنے بے شمار سوالات رکھے اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ مریم نواز نے کہا کہ خود سپریم کورٹ کے جج پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے فیصلے کو نہیں مانتے تو بائیس کروڑ عوام اسے کیسے مان لیں گے۔

انہوں نے چیف جسٹس سے سوال کیا کہ وہ اس وقت جذباتی کیوں نہیں ہوئے، جب نون لیگ کے رہنماوں پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے، فائز عیسیٰ پر دشنام طرازی کی گئی، منتخب وزیر اعظم کو ہٹایا گیا اور جب نون لیگ کے لوگوں کو کہا گیا کہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کریں۔

دوسری طرف نواز شریف نے پنجاب میں انتخابات سے متعلق فیصلہ سنانے والے عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ میں شامل چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الحسن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں