حکومت نے چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

سپریم کورٹ میں بغاوت جیسی صورت حال، چیف جسٹس مستعفی ہوں: مریم نواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس میں جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ چار ججوں کا فیصلہ مس کنڈکٹ، آئین کی غلط تشریح اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مہر ہے۔ ’اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کی پوزیشن متنازع ہو گئی ہے، انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئین کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح قبول نہیں کی جا سکتی۔ ’ناقابل سماعت درخواست پر بینچ بنا کر دیا گیا، فیصلہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مسترد پٹیشن پر بینچ کیسے بنا؟‘

مریم اورنگزیب نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد آئین کی فتح ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سچ بولنے والے ججوں نے اپنے فیصلے کے ذریعے اس سہولت کاری کو بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس فیصلے کو ججوں کی اکثریت نہ مانے، جس فیصلے پر سپریم کورٹ خود تقسیم ہو اس کو عوام کیسے مان لیں؟

انہوں نے کہا کہ یہ ازخود نوٹس بنتا ہی نہیں تھا۔ ’یہ پری میچیور کیس تھا، اس سے تاثر آ رہا ہے کہ ایک سیاسی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی اور آئینی بحران اس از خود نوٹس سے شروع ہوا۔‘

دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے بھی چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے ہر صورت استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ اس سے قبل کسی چیف جسٹس پر اس طرح کی مس کنڈکٹ کا الزام نہیں لگا تھا۔ ’ان کا پی ٹی آئی کی طرف جھکاؤ نمایاں ہے۔ چیف جسٹس بندیال مستعفی ہو جائیں۔‘

ایک دوسری ٹویٹ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان اور پی ٹی آئی کی حمایت کے لیے قانون اور آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔

’اختیارات کے اس صریح غلط استعمال نے پاکستان کی سپریم کورٹ میں بغاوت جیسی غیر معمولی صورت حال کو جنم دیا ہے۔ ’بے عیب شہرت کے ججوں نے چیف جسٹس کے طرز عمل اور تعصب پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں