قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے نئے آپریشن کی منظوری

کمیٹی نے بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی معاشرے میں تقسیم اور در پردہ اہداف کی آڑ میں، ریاستی اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف بیرونی سپانسرڈ زہریلا پراپیگنڈا سوشل میڈیا پر پھیلانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قومی سلامتی کونسل نے پوری قوم اور حکومت کے ساتھ مل کر ہمہ جہت جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی جو ایک نئے جذبے اور نئی عزم وہمت کے ساتھ ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرے گا۔ اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ قومی معاملات پر کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

کونسل کا اکتالیسواں (41) اجلاس جمعہ کے روز وزیر اعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی ایم او سمیت دیگر عسکری اور سویلین حکام بھی شریک ہوئے۔ کمیٹی ممبران اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

قومی سلامتی کے معاملات پر فیصلہ سازی کرنے والی کمیٹی کا اجلاس 2 گھنٹے جاری رہا تھا، مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا، جس میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ یہ اجلاس 2 جنوری 2023 کو پشاور پولیس لائنز میں دہشت گردی کے حملے کے بعد منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے تسلسل میں ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں 7 اپریل 2012 کو سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

اجلاس نے جامع قومی سلامتی پر زور دیا جس میں عوام کے ریلیف کو مرکزی حیثیت قرار دیا گیا اور فورم کو بتایا گیا کہ حکومت اس ضمن میں اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس نے قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لئے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کاوشوں کا اعتراف کیا۔ فورم نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہر، ٹی ٹی پی (دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم) کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جو کہ عوامی توقعات اور خواہشات کے بالکل منافی ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی ناصرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتمادسازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کر دیا گیا۔

واپس آنے والے اِن خطرناک دہشت گردوں اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مدد ملنے کے نتیجے میں ملک میں امن واستحکام منتشر ہوا جو بے شمار قربانیوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا۔

پاکستان سے ہر طرح اور ہر قسم کی دہشت گردی کے ناسُور کے خاتمے کے لئے اِس مجموعی، ہمہ جہت اور جامع آپریشن میں سیاسی، سفارتی سکیورٹی، معاشی اور سماجی سطح پرکوششیں بھی شامل ہوں گی۔ اس سلسلے میں اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل بھی دی گئی جو دو ہفتوں میں اس پر عمل درآمد اور اس کی حدود وقیود سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

اجلاس میں مقتدر انٹیلیجنس ایجنسی کے کامیاب آپریشن کوبہت سراہا گیا جس میں انہوں نے انتہائی مطلوب دہشتگرد گلزار امام عرف شمبے کو گرفتار کیا جو دہشت گرد بلوچ نیشنل آرمی اور ’براس‘ کے بانی و راہنما اور ایک عرصے سے مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔
کمیٹی نے بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی معاشرے میں تقسیم اور در پردہ اہداف کی آڑ میں، ریاستی اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف بیرونی سپانسرڈ زہریلا پراپیگنڈا سوشل میڈیا پر پھیلانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس سے قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔

کمیٹی نے ملک دشمنوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ شہداءکی عظیم قربانیوں اور مسلسل کاوشوں سے حاصل ہونے والے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کو یقینی بنایا جائے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے شرکا کو بریفنگ دی اور آئی ایم ایف سے مذاکرات اور دوست ممالک کے وعدوں سے بھی آگاہ کیا۔ سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز پر ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں