آئین کے محافظ کے طور پر اس کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سیاسی باتوں اور تقریروں سے کوئی تعلق نہیں، ججز فیصلے کرتے ہیں تقریریں نہیں کرتے: سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج کا پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی آئینی کنونشن سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے واضح کیا ہے کہ آئین کے محافظ ہیں آئینی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے سیاسی باتوں اور سیاسی تقریروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مولوی تمیز الدین کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تو کیا یہ ملک دو ٹکڑے ہوتا؟ ججز فیصلے کرتے ہیں تقریریں نہیں کرتے۔ اتنی دشمن سے نفرت نہیں کرتے جتنی ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ اللہ کی کتاب کے بعد آئین پاکستان ہماری پہچان ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے ہال میں آئین کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے منعقدہ قومی آئینی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، گورنرز بلیغ الرحمان، حاجی غلام علی، کامران ٹیسوری، قائم علی شاہ، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
کنونشن کی صدارت اسپیکر راجا پرویز اشرف نے کی۔ ملک بھر سے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز بھی کنونشن میں شریک ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 2014 ء سے پارلیمان کا ہمسایہ ہوں پہلی بار یہاں آیا ہوں ۔ میں یہاں کوئی سیاسی تقریر سننے یا سیاسی تقریر کرنے نہیں آیا اور جو سیاسی تقاریر ہوئی ہیں ان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ادارے کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اللہ کی کتاب کے بعد آئین کی یہ کتاب پاکستان کی پہچان ہے ۔اس پہچان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ یہ مقننہ ہے ہم آئین کے محافظ ہیں اور انتظامیہ عملدرآمد کی پابند ہے۔ سیاست آپ کا کام ہے، قانون آپ بناتے ہیں ہمارے فیصلوں پر یقیناً تنقید کر سکتے ہیں میں نے ایک بار نہیں دو بار آئین کا حلف اٹھایا ہے۔ ایک بار بلوچستان میں آئینی بحران کے موقع پر چیف جسٹس بلوچستان کا حلف اٹھایا اور اس وقت میں اکیلا تھا۔ میرٹ پر جج آئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اتنی دشمنوں سے نفرت نہیں کرتے جتنی ہم ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ پارلیمان ہو عدلیہ ہو انتظامیہ سب خدمت کے لیے ہیں۔ یقینا عدلیہ کو جلد فیصلے کرنے چاہئیں اور عوامی خدمت کے ایسے قوانین بننے چاہئیں اور انتظامیہ کو عملدرآمد کرنا چاہیے۔ یہاں پر سیاسی باتیں بہت ہو گئیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ آئین کی باتیں ہوں گی چلیں اظہار رائے کی آزادی کا معاملہ بھی ہے مگر میں ان سیاسی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ کیونکہ آپ لوگوں کے مستقبل میں میرے سامنے کیس لگ سکتے ہیں اور اگر مخالف فیصلہ آیا تو میرے خلاف باتیں ہوں گی۔

’’میں جشن دستور کے کنونشن میں آیا ہوں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرے والد تحریک پاکستان کے وقت مسلم لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ تحریک پاکستان کو مفادات سے ہٹ کر دیکھیں یہ خواب تھا جو پورا ہوا اور پاکستان بنانے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ بہت بڑا ملک تھا بلکہ ان ناکامیوں سے سیکھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں سب کچھ ہمارا ہے لیکن اگر مولوی تمیز الدین کو وفاقی عدالت سے انصاف مل جاتا تو کیا ملک ٹوٹتا۔ مولوی تمیز الدین کی اسمبلی کو سندھ کی چیف کورٹ نے تو بحال کر دیا تھا وفاقی عدالت نے دوسرا فیصلہ دے دیا۔

ماضی میں چلے جائیں اگر ہم مولوی تمیز الدین کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو کیا یہ دو ملک دو ٹکڑے ہوتا۔ یہ سوال سب کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ میری چچی اس آئین ساز اسمبلی کی رکن تھیں جس میں 1973ء کا آئین بنا۔ انہوں نے کہا کہ آئین سے صرف اس لیے نہیں ہے کہ اس کے ذریعے تنخواہوں کا اندراج ہے بلکہ یہ عوام کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے۔ طالب علموں کو آئین پڑھانا اور سمجھانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے آئین ہاتھ میں اٹھا کر کہا کہ ہم بھی آئین کے محافظ ہیں اس کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے سیاسی باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کل کو یہ نہ کہنا کہ ہم تو آپ کو بلایا تھا ہمارے خلاف ہی فیصلہ دے دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں