’’اتحاد امت کے ذریعے انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے‘‘

پانچویں عالمی سالانہ پیغام اسلام کانفرنس سے صدر مملکت عارف علوی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور سفارتکاروں نے خطاب کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے امت مسلمہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کے پیش نظر اسلامی اقدار اور خوبیوں سے قوت حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو عصر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے اقتصادی استحکام اور جدید علوم کے حصول پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان علماءکونسل کے زیر اہتمام پانچویں عالمی سالانہ پیغام اسلام کانفرنس کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام، سفارتکاروں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے معصوم لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی خاموشی حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں پر نسل کشی کا خطرہ منڈلا رہا ہے کیونکہ ان کی مذہبی شناخت اور آزادی کے ساتھ ساتھ مساجد کو مسمار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً یہ امت مسلمہ کے لیے مشکل وقت ہے لیکن وہ پر امید ہیں کہ اجتماعی کوششوں، تعاون اور اتحاد کے ذریعے ان تمام چیلنجز پر قابو پالیں گے۔ صدر مملکت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انسانی تاریخ سے یہ بات عیاں ہے کہ نسل انسانی نے بڑے پیمانے پر قتل عام کا مشاہدہ کیا اور بنی نوع انسان نے اپنے جھگڑوں کے تلخ تجربات سے سبق نہیں سیکھا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ قرآن پاک کی تعلیمات فطرت کے اعتبار سے ابدی ہیں جو انسانوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں،

انہوں آنے والی نسلوں کو اسلامی اقدار کی تعلیم دینے پر زور دیا جس میں معافی کا اعلیٰ معیار بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خوبی کے مجسم نمونہ تھے جنہوں نے اپنے تمام اذیت دینے والوں کو معاف کردیا۔ صدر نے کہا کہ اسلام امن، بھائی چارے اور رواداری کا درس دیتا ہے، ہمیں حضور اکرمﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی قیادت اپنی تلخیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جرات مندی کا مظاہرہ کرے اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا لیکن اب دوسرے ممالک اس راہ پر گامزن ہیں، ہمیں سنجیدگی سے ماضی پر نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر سعودی عرب کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا۔

اس موقع پر پیغام اسلام کانفرنس کے شرکاء نے انتہاء پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے مسلم امہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی تائید و حمایت کی اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب اور برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کیلئے کردار ادا کیا۔ یہ اجتماع امید کرتا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں وحدت امہ کی راہ ہموار ہو گی اور اس مقصد کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

کانفرنس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما، مشائخ و عظام، سیاسی و دینی جماعتوں کے اکابرین اور نمائندوں نے شرکت کی اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان چینی ثالثی میں تعلقات کی بحالی کے اہم موقع پر کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کے کردار کو سراہا۔

تقریب سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے جس کی نشاندہی علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں کی تھی اور آج اس کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، سعودی قیادت کی کاوش کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے اتحاد امہ کی اہمیت کو سمجھا اور چین کو کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر اچھے اور برے وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

انہوں نے اس سلسلہ میں پاکستان میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان نے جب ایٹمی دھماکے کئے سعودی عرب پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کا ساتھ دیا اور اس مشکل وقت میں ہماری مدد کی، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ولولہ انگیز قیادت میں اسلامی دنیا ایک نئی منزل کی طرف منتقل ہو رہی ہے، چینی صدر کے تاریخی دورہ سعودی عرب سے باہمی تعلقات میں گرمجوشی آئی ہے جس کا مظہر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کا فروغ پانا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ایشیاء کی تقدیر کے فیصلے ایشیاء کرے گا۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج کا اجتماع پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر مشتمل ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم سب مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کیلئے متحد اور متفق ہیں اور اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے، حرمین شریفین امت مسلمہ کے مرکزی مقدس مقامات ہیں، ایران اور سعودی عرب تعلقات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور سعودی قیادت کے شکرگزار ہیں کہ اتحاد امہ کیلئے انہوں نے کردار ادا کیا،

حرمین شریفین کی حرمت اور تحفظ کو ارض پاکستان کا ہر فرد اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے جس کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، پورے عالم اسلام میں پیغام اسلام کے ذریعے مضبوط لائحہ عمل دیا جائے گا، فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آئندہ ایسی کوئی کوشش کرے گا تو اسے ناکامی کا سامنا ہے اور ماضی کی طرح ہم سب مل کر اسے ناکام بنائیں گے، او آئی سی کی سربراہی سعودی عرب کے پاس ہے اور سعودی عرب اسلامی امہ کا مرکز ہے اور امید کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کیلئے مضبوط اور مؤثر آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوست ممالک بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے جس کیلئے وطن عزیز میں ہمیں سیاسی اور مذہبی استحکام لانا ہو گا، سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے اور پاکستان کے استحکام کیلئے ہمہ وقت حاضر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جونہی رمضان شروع ہوتا ہے فلسطینیوں کا خون بہایا جاتا ہے اور امت مسلمہ بالخصوص او آئی سی کو مظلوم فلسطینیوں اور کشمیری کیلئے آواز اٹھانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وطن عزیز کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، دہشت گردی کو جس طرح افواج پاکستان کے ساتھ مل کر قوم نے شکست دی اسی عزم کے ساتھ وحدت امہ اور اتحاد کیلئے کردار ادا کریں گے اور سعودی عرب کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔قبل ازیں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان برادرانہ، تاریخی اور قریبی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ قریبی اور پرجوش تعلقات کی جڑیں گہری ہیں اور مشترکہ مفادات پر تشکیل پاتے ہیں، سعودی عرب اور مسلم ممالک کے عوام پاکستان کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب مختلف ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پاکستانی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس موقع پر پاکستان میں فلسطین کے سفیر احمد ربیع نے بھی خطاب کیا اور فلسطینیوں کی حمایت کیلئے آواز بلند کرنے پر حافظ طاہر محمود اشرفی اور دیگر مقررین کا شکریہ ادا کیا اور فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے پاکستانی عوام اور حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔

انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور جاری اسرائیلی جارحیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نہتے فلسطینی اپنی آزادی کیلئے مصروف عمل ہیں اور ان شاء ﷲ فلسطین ضرور آزاد ہو گا۔ فلسطینی سفیر نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں اور ان کی حفاظت مسلم امہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ فلسطینی سفیرنے پاکستانی عوام، حکومت اور سیاسی قیادت کی طرف سے فلسطینی کاز کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حمایت پر فلسطینی عوام کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قابض اسرائیلی افواج کی طرف سے مظالم کے حالیہ اضافے پر بھی روشنی ڈالی۔تقریب سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، سینئر صحافی سلیم صافی، جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف، مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و معاون خصوصی فیصل کریم کنڈی، عیدگاہ شریف کے گدی نشین پیر نقیب الرحمن، صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن اور دیگر دینی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں