حکومت کی اپیل پربیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مارچ میں 2.5 ارب ڈالر کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے مرکزی بینک نے پیر کے روزاعلان کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مارچ میں ڈھائی(2.5) ارب ڈالرترسیلات زر کی شکل میں وطن بھیجے ہیں۔حکومت نے ان سے مزید سخت کرنسی کی ترسیلاتِ زر کی اپیل کی ہے۔

بینک دولت پاکستان کی ایک ٹویٹ کے مطابق یہ رقم فروری کے مقابلے میں 27.4 فی صد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے اور گذشتہ سات ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے پاکستان کی بیمار معیشت میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ترسیلات زر زیادہ تر امریکا، برطانیہ اور مشرق اوسط میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے آئیں۔

گذشتہ موسم گرما میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں 1739 افراد ہلاک،ہزاروں زخمی اور 20 لاکھ گھر تباہ ہوگئے تھے اورملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچاتھا۔اس نتیجے میں پاکستان بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔

پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج میں سے 1.1 ارب ڈالر کے قرض کی اہم قسط حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں 2019 میں طے شدہ معاہدے کی شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے یہ قسط دسمبر سے روک دی گئی تھی۔

ماہرین اقتصادیات کو خدشہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے میں ناکامی سے افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے قریباً 21 فی صد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسرکر رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کو معاشی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق کرکٹ اسٹار سے اسلام پسند سیاستدان بننے والے عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 کے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔

عمران خان کو اپریل 2022 میں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے معزول کردیا گیا تھا۔ اب وہ وزیراعظم شہبازشریف سے قبل ازوقت عام انتخابات کرانے کے مطالبے کے حق میں مہم چلائی تھی۔ پیر کے روز قانون سازوں سے خطاب میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے عمران خان پرالزام عاید کیا کہ وہ ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر بحران کو گہرا کر رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’’ہم پاکستان کو ترقی کی راہ پر واپس لائیں گے‘‘۔انھوں نے دعویٰ کیاکہ اللہ کے فضل سے' اور شہباز شریف کی انتظامیہ کی جانب سے بروقت اقدامات' کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر،جو گذشتہ ماہ کم ہو کر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے آ گئے تھے،ان میں بہتری دیکھی گئی ہے اور اب یہ 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں