’’عہدے کا حلف اٹھائے ایک سال مکمل، بڑے چیلنجز اور مشکلات کا سال رہا‘‘

وزیراعظم شہبازشریف نے ٹوئٹر پر اپنی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کامیابی کے سفرسے عبارت ہے جس کے دوران پاکستان کی ساکھ بحال ہوئی اورملک کو درپیش کٹھن معاشی اور توانائی کے چیلنجز پرقابو پایا گیا،مختلف منشور کی حامل سیاسی جماعتوں کا مشترکہ قومی مقصدکے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونا ملک کے سیاسی ارتقا میں ایک اہم پیشرفت کا عکاس اورمفاہمت کی سیاست کا آئینہ دار ہے۔

منگل کوموجودہ حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر معیشت ، توانائی ، سفارتکاری ، مواصلات اور ماحولیات سمیت مختلف شعبہ جات میں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے اپنے متعدد ٹویٹس میں وزیراعظم نے کہا کہ آج اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہورہا ہے جب میں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا،میرے نقطہ نظر سے یہ سال بڑے چیلنجز اورمشکلات کا سال تھا، عمران نیازی کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک صرف اس حوالے سے بے مثال نہیں تھی کہ پی ڈی ایم اقتدار میں آئی بلکہ اس لئے کہ پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے آئینی ذرائع سے غیرمقبول حکومت کو ووٹ کی طاقت کے ذریعے ہٹانے کےلئےمجتمع ہوئیں ۔

انہوں نے کہا کہ مختلف منشور رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ قومی مقصدکے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونا ملک کے سیاسی ارتقا میں ایک اہم پیشرفت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2022 کےبعد کا دورمحاذ آرائی اور انتقام کی بجائے مفاہمت اور تعاون کی نئی سیاست کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نےکہا کہ عمران خان کی جانب سے بچھائی گئی اقتصادی سرنگوں اورعالمی سطح پرپٹرولیم مصنوعات اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے باوجودپاکستان کی معیشت بدستور رواں دواں ہے اور ڈیفالٹ کی تمام پیشنگوئیاں غلط ثابت ہوئیں، معیشت کی بحالی کےلئے مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت نیازی دور حکومت میں پاکستان کے سفارتی تعلقات کوپہنچائے جانے والے نقصانات کے ازالے اور تشکیل نو کے ساتھ ساتھ انہیں وسعت دینے کےلئے سرگرداں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم عوام کو یہ بتا سکتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے ایک شراکت دار اور دوست کے طور پر پاکستان کی ساکھ قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو گزشتہ سال بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، حکومت نے اس سے نمٹنے کےلئے فیصلہ کن انداز میں بچائو، ریلیف اور بحالی کی کاوشیں کیں، لاکھوں متاثرین کو سماجی تحفظ فراہم کیا اورعالمی برادری کو متحرک کیا، ان اقدامات کو دنیا نے سراہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے تحت حکومت نے گزشتہ سال اپریل میں اپنے قیام کے بعد سے اسلام آباد میں ترقیاتی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جلد تکمیل پر توجہ مرکوز کی ہے جس کا مقصد شہریوں کو نقل وحرکت میں آسانی ، آرام دہ اور سستی سہولت کی فراہمی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے شہریوں کو سہولت دینے کے لئے انرجی مکس کےلئے کوششیں بروئے کارلائی ہیں اور اس سلسلے میں شمسی ، ہائیڈل اورکوئلے سے بجلی کے منصوبوں پرتوجہ مرکوز کرنے کا مقصد بجلی پیدا کرنے کے مہنگے ذرائع کو سستے منصوبوں میں بدلنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر مہنگائی نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے ، جیو اسٹریٹیجک مخاصمت، ایندھن اورغذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور بدترین سیلاب موجودہ مہنگائی کے چند عوامل ہیں، ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے سماجی تحفظ کے نیٹ کو وسعت دی اور ٹارگٹڈ سبسڈی مہیا کی۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہوا ، یہ بہترین بین الوزارتی رابطہ کاری اور ہماری عسکری قیادت کی طرف سے دی جانے والی حمایت کی بدولت ممکن ہوا، یہ ایک طویل سفر تھا لیکن مسلسل کوششوں نے اسے ممکن بنایا۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے عالمی سطح پرپاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کےلئے موسمیاتی سفارتکاری کا استعمال کیا، جی 77پلس چائنا کے صدر کی حیثیت سے ہم لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کےقیام میں معاون رہے ، جنیوا میں کانفرنس میں 9 ارب ڈالر کے اعلانات ہماری کامیاب سفارتکاری کا ثبوت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں