عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی سے متعلق درخواست پر فریقین سے مزید دلائل طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مختلف کیسز میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے حوالے سے دائر درخواست پر فریقین سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 18 اپریل تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالہ سے دلائل دیں کہ کیا مختلف مراحل پر ملزم کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جبکہ جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ وہ اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں اور ایسے وکیل کو معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا کسی پارٹی کی جانب جھکائو نہ ہو اور وابستگی نہ ہویا کسی کیس کے اندر کسی جماعت کی نمائندگی نہ کرتا ہو۔

عدالت کا کہنا تھا کہ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ اچھا آپشن ہیں ان کو معاون مقرر کیا جا سکتا ہے۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل ابوذر سلمان خان نیازی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں مصروف ہیں اس لئے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔

اس پر عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست میں کیا گرائونڈز ہیں اور کیا مئوقف ہے اور آپ کی کیا اپیل ہے۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ویڈیو لنک اور تمام مقدمات کو جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اکٹھا کرنے کی درخواست ہے۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کیسز کو اکٹھا کرنے والا معاملہ توسیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

عدالت نے ایڈیشل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے بتانا ہے کہ کیا ویڈیو لنک کے ذریعہ حاضری کافی ہوتی ہے، کیا تمام اسٹیجز پر ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری ہو سکتی ہے۔ عدالت کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ قانون میں بہت سی جگہوں پر ملزم کی ذاتی حاضری ہوتی ہے، ملزم کی موجودگی میں جرح کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ملزم کو پتہ ہو کہ اس کے خلاف کیا الزامات ہیں اورکیا مقدمہ ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں اور ایسے وکیل کو معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا کسی پارٹی کی جانب جھکائونہ ہو اور وابستگی نہ ہویا کسی کیس کے اندر کسی جماعت کی نمائندگی نہ کرتا ہو۔ عدالت کا کہنا تھا کہ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ اچھا آپشن ہیں ان کو معاون مقرر کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں