عدالتی اصلاحات بل: حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بنچ کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حکومت میں شامل جماعتوں نے لارجر بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک قانون ابھی بنا ہی نہیں لیکن اس پر سماعت کے لیے بینچ بنا دیا گیا۔یہ ساری صورتِ حال افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'پک اینڈ چوز' کے ذریعے آٹھ رکنی بینچ بنا جس میں دو سینئر ترین جج شامل ہی نہیں۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ 'سپریم کورٹ پروسیچر اینڈ پریکٹس بل' چیف جسٹس کے اختیار سے متعلق ہے اس لیے انہیں اس بینچ میں تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق توقع کرتے ہیں کہ آج یہ بینچ تحلیل کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے پیر کو عدالتی اصلاحات بل منظور کیا تھا جب کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بدھ کو بل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

ادھر تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ‏ حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ کے بینچ کو مسترد کرنے کا بیان بغاوت کے مترادف ہے۔

فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آئین حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند کرتا ہے۔کوئی حکومت پسند کا بینچ ہونے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔

خٰیال رہے کہ پاکستان کی پارلیمان نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات محدود کرنے پر مشتمل 'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل' کثرتِ رائے سے منظور کیا تھا۔

بل دستخطوں کے لیے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوایا گیا تھا، جنہوں نے بل پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے بل واپس پارلیمان کو بھجوا دیا تھا۔ تاہم رواں ہفتے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ اس موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکینِ پارلیمنٹ نے احتجاج کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں