عدالت عظمی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل پر عمل درآمد روک دیا

بل پر صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں عمل درآمد نہیں ہو گا، 8 صفحات کا تحریری حکم نامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عدالت عظمی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر عمل درآمد روک دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید میں شامل ہیں۔

ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے جمعرات کی سماعت پر8صفحات پر مبنی حکمنامہ جاری کر دیا، جسے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف 3 درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی گئیں۔

ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، اس دوران عبوری حکم نامہ جاری کرنا ضروری ہے۔ حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت 2 مئی کو ہو گی، حکم امتناعی کا اجرا نا قابل تلافی خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے، صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت عدلیہ اور خصوصی طور پر سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی آزادی کیلئے متفکر ہے، اس ضمن میں مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے عدالت کی مداخلت درکار ہے، سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلا کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں ۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی ،جے یوآئی، ایم کیو ایم، بی اے پی، ق لیگ اورتحریک انصاف کو نوٹسزجاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 2 مئی تک ملتوی کر دی۔

پارلیمنٹ سے پاس کیا گیا مجوزہ قانون چوہدری غلام حسین اور راجہ عامر خان نامی شہریوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، درخواستوں میں مجوزہ ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اہم مقدمہ ہے جس میں عدلیہ کی آزادی کا نکتہ اٹھایا گیا، پارلیمنٹ کا بے حد احترام کرتے ہیں، عدالت مجوزہ ایکٹ کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ کوشش کریں گے آئندہ سماعت جلد سے جلد مقرر کی جائے، ساتھی ججز کی دستیابی سے ہی آئندہ سماعت مقرر کی جائے گی۔

اس سے قبل درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے، قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے، قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات کرانے پر آمادہ نہیں، عدالت کو انتخابات نہ کروانے پر از خود نوٹس لینا پڑا۔

امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کا حکم دیا، 3 اپریل کو عدالت نے دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا، آئین پر عمل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد مسائل زیادہ پیدا کئے گئے، عدالت اور ججز پر ذاتی تنقید کی گئی، حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ اس کے ذمہ دار ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی، دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدر کو بھجوایا گیا، صدر مملکت نے اعتراضات عائد کرکے بل اسمبلی کو واپس بھیجا، سیاسی اختلاف کے باعث صدر کے اعتراضات کا جائزہ نہیں لیا گیا، مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد 10 دن میں بل قانون بن جائے گا، آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے، بل کے تحت ازخود نوٹس اور بینچز کی تشکیل 3 رکنی کمیٹی کرے گی۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ بل قانون بننے کے لائق ہے؟۔ ان کا کہنا ہے کہ کابینہ کی جانب سے بل کی توثیق کرنا غیر قانونی ہے، بل کابینہ میں پیش کرنا اور منظوری دونوں انتظامی امور ہیں، بل کو اسمبلی میں پیش کرنا اور منظوری لینا بھی غیر آئینی ہے، بل زیر التوا نہیں بلکہ مجوزہ ایکٹ ہے، صدر منظوری دیں یا نہ دیں ایکٹ قانون کا حصہ بن جائے گا، سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

امتیاز صدیقی نے کہا کہ چیف جسٹس کے بغیر سپریم کورٹ کا کوئی وجود نہیں، چیف جسٹس کی تعیناتی سے ہی سپریم کورٹ مکمل ہو کر کام شروع کرتی ہے، چیف جسٹس کے بغیر دیگر ججز موجود ہوں بھی تو عدالت مکمل نہیں ہوتی۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے سے عدلیہ کی آزادی اور دیگر ججز متاثر ہوں گے، عدالت آئین کی محافظ اور انصاف کرنے کیلئے بااختیار ہے، تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کے پابند ہیں، سپریم کورٹ کے رولز موجود ہیں، پارلیمنٹ ترمیم نہیں کر سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے جسے آئین کا مکمل تحفظ حاصل ہے؟، آپ کے مطابق پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کی طرح عدلیہ کو بھی آئینی تحفظ ہے؟۔امتیاز صدیقی نے کہا کہ صدر ریاست پاکستان کی وحدانیت کی علامت ہیں، صدر کا عہدہ صرف رسمی نوعیت کا نہیں ہے، صدر نے بل کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی، اسمبلی سے منظوری کے بعد بل میں ترمیم نہیں ہو سکتی، بل کی منظوری کے بعد قانون سازی کا عمل مکمل تصور ہوتا ہے۔ عدالت کا موجودہ کیس میں حکم زیر التوا قانون سازی میں مداخلت نہیں ہوگا، پارلیمنٹ اپنا کام مکمل کر چکی اس لئے یہ مداخلت تصور نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق بل بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا تھا جہاں حزب اختلاف اور حکومتی اراکین نے بل کی بھرپور حمایت کی جبکہ چند آزاد اراکین نے اسے عدلیہ پر قدغن قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کا مقصد از خود سماعت کے نوٹس کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کو انفرادی حیثیت میں حاصل اختیارات کو کم کرنا ہے۔ بل کو وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا جسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں