پنجاب انتخابات کیس؛ سپریم کورٹ کا اسٹیٹ بینک کو فنڈز جاری کرنیکا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لئے قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن نے اِن چیمبر سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ کے حکام پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے فنڈز کے اجرا میں بے بس ہے، پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا تو فنڈز کیسے جاری کریں۔

دوران سماعت سیکرٹری الیکشن کمیشن، وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک حکام نے فنڈز کی عدم فراہمی کے بارے میں موقف تین رکنی بنچ کے سامنے رکھا۔

ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک کے ہمراہ آنے والے دیگر افسران کو چیمبر سے باہر بھیج دیا گیا جبکہ وزارت خزانہ کے سپیشل اور ایڈیشنل سیکرٹری کے علاوہ دیگر حکام کو بھی سماعت کے وقت باہر بھیجا گیا، اٹارنی جنرل، سیکرٹری اور ڈی جی لاء الیکشن کمیشن سماعت میں موجود رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ججز نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ عدالتی حکم پر عمل کرنا پڑے گا، سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو حکومتی مؤقف پیش کرنے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر عملدرآمد کیا ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے رقم کے لئے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا، پارلیمنٹ نے انتخابات کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈزکے اجرا کے بل کو مسترد کیا، پارلیمنٹ سے بل مسترد ہونے کے بعد حکومت سٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کا نہیں کہہ سکتی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ سپریم کورٹ نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سماعت میں پیشی سے قبل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم شہباز شریف کے طلب کرنے پر ان کے ساتھ مشاورت کی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 12 اپریل کو الیکشن کمیشن کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کی رپورٹ پر نوٹسز جاری کر دیئے تھے، سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے وفاقی حکومت کو 21 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی تھی

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں