خیبر پختونخوا میں توہین مذہب کے الزام داسو ڈیم پر کام کرنے والا چینی انجینئر گرفتار

پاکستان میں کسی غیر ملکی کو توہینِ مذہب کے الزام میں پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں داسو ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئر کو پولیس نے مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں تحویل میں لے لیا ہے۔

داسو پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ چند روز قبل اُس وقت پیش آیا جب چینی انجنیئر نے مزدوروں کے کام کی سست رفتاری پر اعتراض کیا جس کے جواب میں مزدوروں نے نماز کے وقفے کی بات کی۔

پولیس اہلکار کے مطابق مزدوروں اور چینی انجینئر کے درمیان تکرار لفظی جنگ میں تبدیل ہو گئی اور یوں مزدوروں نے سائٹ پر کام روک دیا۔ جس کے بعد انہوں نےاحتجاج کرتے ہوئے چینی انجینئر پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر شاہراہِ قراقرم کو بلاک کر دیا۔

پولیس نے اس شخص کی شناخت صرف چین سے تعلق رکھنے والے مسٹر تیان کے نام سے کی ہے اور بتایا ہے کہ اسے اتوار کی رات گرفتار کیا گیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل حب ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے سینکڑوں افراد نے اہم شاہراہ کو مظاہرہ کر کے بلاک کر دیا تھا اور ریلی نکالی تھی۔

مقامی پولیس چیف نصیر خان نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر چینی شہری کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے اور ہم ابھی اس حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سڑک کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے اور داسو ڈیم پر کام بھی دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ چینی شہری کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ داسو ڈیم پروجیکٹ میں ہیوی ٹرانسپورٹ کا انچارج تھا۔

واضح رہے کہ اپر کوہستان کے مختلف علاقوں اور گلگت بلتستان کے دیامیر بھاشا میں کئی چینی باشندے پانی جمع کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔

ضلعی اہلکار کے مطابق حالات کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مقامی علما اور عمائدین کا جرگہ بلانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ معاملے کو حل کیا جا سکے۔ مزدوروں اور چینی انجینئروں کے کیمپ کی سیکیورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کے نمایاں واقعات

پاکستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران توہینِ مذہب کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ہی صوبۂ پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں ایک خاتون اور ان کے بیٹے کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم ایسا پہلی بار ہو اہے کہ پاکستان میں کسی غیر ملکی کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہو۔

فروری 2022 میں ڈان اخبار کے مطابق پنجاب کے ضلع خانیوال کے دور دراز گاؤں میں ہجوم نے ایک شخص کو قرآن پاک کی مبینہ توہین کر نے پر پتھر مار کر قتل کر دیا تھا۔

اسی طرح کا ایک واقعہ دسمبر 2021 میں پیش آیا، جب سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔

جنوری 2022 میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1947سے2021 تک توہین مذہب کے الزامات میں 18 خواتین اور 71 مردوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اب تک 107 خواتین اور ایک ہزار 308 مردوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2011 سے 2021 کے دوران ایک ہزار 287 شہریوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے۔

محقیقین کا ماننا ہے کہ حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ توہین مذہب کے تمام کیسز میڈیا پر رپورٹ نہیں کیے جاتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ 70 فیصد سے زائد کیسز پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔

اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہےکہ 55 کیسز دارالحکومت اسلام آباد میں دائر کیے گئے، جو خیبر پختونخوا اور کشمیر میں رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسز سے زیادہ ہیں۔

علاوہ ازیں پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 98 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے جہاں توہین مذہب کے 177 کیسز رپورٹ ہوچکے ہی، اس زمرے میں خیبر پختونخوا میں 33، بلوچستان میں 12 جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں 11 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے، اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون سازوں کو تجویز دی تھی کہ موجودہ قانون میں ترمیم کریں تاکہ ایسے افراد جو توہین مذہب کے غلط الزامات لگاتے ہیں انہیں یکساں سزا دی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین 1860 میں انگریزوں کے دور میں بنائے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر 1927میں تعزیرات ہند کے تحت توہین مذہب کے قوانین 295، 296، 297 اور 298 متعارف کروائے گئے، بعد ازاں مسلم کارپینٹر علم الدین کے کیس کے بعد شق 295 میں ایک اور شق ضمنی شک 295 اے شامل کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں