الیکشن کیس؛ مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتے، عدالت کا حکم نہیں صرف تجویز ہے: چیف جسٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ہے ’’کہ لگتا ہے کہ حکومت پاس پاس کھیل رہی ہے۔ اگر مذکرات کے ذریعے حل نہ نکلا تو آئین بھی موجود ہے اور عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے۔‘‘

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ درخواست گزار سردار کاشف کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو انتخابات سے متعلق سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی کمیٹی کی تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر سے ملاقات ہوئی تھی لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ مذاکرات کے لیے بااختیار نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسد قیصر کے بعد کیا کوشش کی گئی، کون مذاکرات کے لیے با اختیار ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منگل کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کے لیے با اختیار ہیں۔

کمرۂ عدالت میں موجود تحریکِ انصاف کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج تک ان سے کسی ے رابطہ نہیں کیا۔ البتہ چیئرمین سینیٹ نے گزشتہ روز فون پر بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم کے اصرار وہ وہ رابطہ کر رہے ہیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل سے متعلق ارکان کے نام پر بات کی لیکن یہ تاخیری حربہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدہ ہے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی سے استفسارکیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ سنجیدگی کے ساتھ رابطہ نہیں کیا گیا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف بات چیت کے لیے تیار ہے اور آج ہی بیٹھنے کو تیار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہو گا۔ قومی مفاد اور آئین کے تحفظ کے لیے اتفاق نہ ہوا تو جیسا ہے ویسے ہی چلے گا۔

تحریکِ انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ماحول سازگار ہو گا تو مذاکرات ممکن ہوں گے لیکن اس کے لیے وقت مقرر کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں تاخیر سے مقصد فوت ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ابھی کوئی ہدایت دے رہے ہیں اور نہ ٹائم لائن۔ ایک ہی ساتھ انتخابات کی درخواست پر مناسب حکم جاری کریں گے۔

عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

گذشتہ سے پیوستہ

واضح رہے سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو ہونے والی سماعت کے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ’ 14مئی کو پنجاب میں انتخابات سے متعلق فیصلہ برقرار ہے۔‘

عدالت حکم نامے کے مطابق سیاستدانوں کے آپس کے تمام اختلافات پر مذاکرات کا اصل فورم سیاسی ادارے ہیں، عدالت کو ایک ہی دن پورے ملک میں انتخابات کے لیے مذاکراتی عمل پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہیں۔‘

سپریم کورٹ نے حکم نامہ میں سیاسی رہنماوں کی مزید ملاقات کے لیے 26 اپریل کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کی تھی۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ’27 اپریل تک سیاسی رابطوں اور ڈائیلاگ کی پیش رفت رپورٹ جمع کروائی جائےگی۔‘

دوسری جانب سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو حکم دیا تھا کہ ’27 اپریل تک پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے لیے 21 ارب روپے جاری کیے جائیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں