سپریم کورٹ سیاسی جھگڑوں میں الجھنے سے گریز کرے، سپیکر کا چیف جسٹس کو خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے ایوان نمائندگان قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے۔

سپیکر نے قومی اسمبلی کے ارکان کی آراء اور جذبات کی روشنی میں یہ خط لکھا ہے۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف نے’پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت‘کے عنوان سے پانچ صفحات پر مشتمل خط ارسال کرتے ہوئے لکھا کہ ایوان کے محافظ کے طور پر آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔

راجہ پرویز اشرف نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے بعض حالیہ فیصلوں، ججوں کے تبصروں پر عوامی نمائندوں کے اضطراب اورتشویش کے اظہار کے طور پر یہ خط لکھ رہا ہوں۔

خط کے مطابق قومی اسمبلی شدت سے محسوس کرتی ہے کہ حالیہ فیصلے قومی اسمبلی کے دو بنیادی آئینی فرائض میں مداخلت ہے، ان آئینی امور میں قانون سازی اور مالیاتی امور پر فیصلہ سازی ہے۔

سپیکر کے خط میں لکھا گیا ہے: آپ کی توجہ آئین کے آرٹیکل 73 کی طرف مبذول کراتا ہوں، آرٹیکل 73 کے تحت مالیاتی بل کی منظوری قومی اسمبلی کا خاص اختیار ہے۔

آئین کے آرٹیکل 79سے 85تک کے تحت قومی خزانے سے اخراجات کی منظوری منتخب نمائندوں کا اختیار ہے۔

آئین کی ان واضح شقوں اور اختیارات کی تقسیم کے تناظر میں قومی اسمبلی کی تشویش اور بے چینی سے آپ کو آگاہ کر رہا ہوں۔

14اور19 اپریل کو تین رُکنی بینچ نے سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو الیکشن کمشن کو21 ارب جاری کرنے کے حکم دیے۔ قومی اسمبلی کی طرف سے رقم دینے سخت ممانعت کے باوجود یہ احکامات جاری کیے گئے۔

سپیکر نے خط میں قومی اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں ، مجلس قائمہ خزانہ کے فیصلے کے حوالے بھی شامل کیے اور لکھا:

10 اپریل کو قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو 21 ارب جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔


17 اپریل کو مجلس قائمہ خزانہ نے وزارت خزانہ کو پہلے قومی اسمبلی سے منظوری لینے کی ہدایت کی۔

اس اقدام کا مقصد بلا اجازت اخراجات کی آئینی خلاف ورزی سے بچنا تھا۔ دیگر اخراجات کے عنوان سے 21 ارب کی ضمنی گرانٹ کی قومی اسمبلی سے بعد ازاں منظوری کو مسترد کر دیا گیا۔

سپیکر کے مطابق افسوس ہے کہ تین رُکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے آئینی عمل اور استحقاق کو مکمل نظر انداز کیا، ظاہر ہوتا ہے کہ تین رُکنی بینچ نے عجلت میں حکم دیا۔

تین رُکنی بینچ نے وفاقی حکومت کو 21 ارب جاری کرنے کا عام معمول سے ہٹ کر حکم دیا، رقم جاری ہو جانے کے بعد غالب امکان یہی ہے کہ قومی اسمبلی اسے مسترد کر دے گی۔

سپیکر نے لکھا کہ بلا اجازت رقم جاری کرنے کے وفاقی حکومت کے لئے سنگین اثرات ہوں گے۔

تین رُکنی بینچ نے رقم جاری نہ ہونے پر وفاقی حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ قومی اسمبلی کو تابع بنانے کی کوشش ہے، یہ اقدام آئینی طریقہ کار کے خاتمے کے مترادف ہے، سپیکر کا خط

قومی اسمبلی واضح ہے کہ یہ حکم ناقابل قبول اور قومی اسمبلی کے اختیار ،استحقاق اور دائرہ کار کی توہین ہے، عدلیہ کو تشریح کا اختیار ہے، آئین ’ری۔رائٹ‘ کرنے کا نہیں۔

سپیکر کے مطابق عدلیہ کو پارلیمنٹ کی خودمختاری کم کرنے کا اختیار نہیں، جج صاحبان نے آئین کے دفاع، تحفظ اور اسے قائم رکھنے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

قومی اسمبلی کی پختہ رائے ہے کہ خزانے سے متعلق فیصلہ سازی صرف قومی اسمبلی کا اختیار ہے۔

آئین اور عوام کی طرف سے ملنے والے اختیار واستحقاق کا قومی اسمبلی بھرپور دفاع کرے گی، سپیکر کا خط

قومی اسمبلی دستوری طریقہ کار سے انحراف یا متعین مطلوبہ عمل سے روگردانی کی مزاحمت کرے گی۔

قومی اسمبلی کا موقف ہے کہ ازخود نوٹس کے تحت کارروائی تین کے مقابلے میں چار ججوں نے مسترد کر دی ہے۔ 4، 14 اور 19 اپریل کے احکامات قانونی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں