عمران خان کی پیشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے جمعہ کے روز عمران خان کی عدالتوں میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان کے مطابق ’عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ پیشی کے موقع پر امن و عامہ کے پیش نظر جی ٹین پراجیکٹ موڑ اور عون محمد رضوی روڈ پر مبتادل راستہ دیا گیا ہے۔ شہری دوران سفر متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔

پولیس کے بیان کے مطابق ’قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ عدالتوں میں پیشی کے دوران قانون کا احترام کریں گے۔

واضح رہے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے خلاف تھانہ رمنا میں درج ’بغاوت پر اکسانے‘ کے مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے لیے پیش ہوں گے۔

عمران خان کے خلاف درج اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ چھ اپریل 2023 کو تھانہ رمنا میں درج کیا گیا تھا۔

منظور احمد نامی شخص نے عمران خان کے خلاف ایف آئی درج کرواتے وقت اپنی درخواست میں دعوی کیا تھا کہ ’عمران خان اپنی تقاریر سے پاک فوج کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عمران خان فوج اور اس کے افسران کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا بھی لے رہے ہیں جس سے ملکی سالمیت کو بھی خطرہ درپیش ہے۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’عمران خان نےملک کے دفاعی اداروں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگا کر عوام میں انتشار، بے چینی اور نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔‘

ایف آئی آر میں عمران حان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’الزام علیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئیندہ کوئی ملکی اداروں کے خلاف نفرت اور بدامنی پھیلانے کی جرات نہ کر سکے۔‘

واضح رہے کہ اس ایف آئی آر کو عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے یہ موقف اپنا کر چیلنج کیا ہے کہ ان کے مطابق ایک تو یہ جرم نہیں بنتا دوسرا یہ مقدمہ اسلام آباد میں درج نہیں ہو سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں