اینٹی کرپشن اور پولیس پرویز الہیٰ کو گرفتار کرنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کی گرفتاری کے لیے پولیس اور اینٹی کرپشن بکتر بند گاڑی کی مدد سے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رہائش گاہ پر رات گئے چھاپے میں خواتین سمیت 25 ملازمین کو گرفتار کیا۔ پرویز الہی کی گرفتاری میں پہلے پہل ناکامی ہوئی جس پر آپریشن ختم کرنے کا عندیہ دیا گیا۔

پرویز الٰہی کی گھر میں ہی موجودگی کا دوبارہ دعویٰ کرکے آپریشن پھر شروع کیا گیا تاہم پی ٹی آئی رہنما گھر پر نہ ملے اور 7 گھنٹے بعد تیسری بار سرچ آپریشن میں ناکامی پر اینٹی کرپشن اور پولیس ان کے گھر سے باہر نکل آئی۔

پولیس کی چھاپہ مار ٹیم نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی گلبرگ میں واقع رہائش گاہ کا مین گیٹ بکتر بند گاڑی سے توڑ ڈالا اور گھر میں موجود 12 افراد کو گرفتار کر لیا جن میں زیادہ تر ان کے ملازمین تھے، علاوہ ازیں خواتین پولیس اہلکاروں نے کچھ خواتین کو بھی حراست میں لے لیا۔

ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں موجود ملازمین پر لاٹھی چارج کیا۔

پولیس اہلکاروں نے گھر کی اچھی طرح تلاشی لی لیکن پرویز الہٰی کو نہ ڈھونڈ سکے، انہوں نے صدر مسلم لیگ (ق) چوہدری شجاعت حسین کی ملحقہ رہائش گاہ میں بھی زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ان کے بیٹوں کی جانب سے پولیس کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کی کارروائی لگ بھگ رات 2 بجے تک جاری رہی تاہم پرویز الہٰی کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی جو مبینہ طور پر گھر میں موجود نہیں تھے۔

اس حوالے سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ ان کی گوجرانوالہ کی ٹیم پرویز الہٰی کے گھر انہیں کرپشن کیس میں گرفتار کرنے پہنچی تھی۔

پرویز الہٰی کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ عدالت سے پرویز الہٰی کی ضمانت قبل از گرفتاری 6 مئی تک لی جا چکی ہے، جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم کا اصرار تھا کہ پرویز الہٰی کی گرفتاری ایک نئے کیس میں درکار ہے اور وہ پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کیے بغیر نہیں جائیں گے۔

پرویز الہٰی کے وکلا نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حکام کو ان کی ضمانت کے بارے میں یقین دہانی کرائی اور ان کی ایک عدالتی عہدیدار سے فون پر بات بھی کروائی لیکن اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔

مونس الہی کا ٹویٹ

پرویز الہٰی کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی نے گزشتہ شب اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پنجاب پولیس اس وقت میرے والد کو ایک کیس میں گرفتار کرنے کے لیے ہماری رہائش گاہ پہنچی ہوئی ہے جس کے لیے انہیں آج ضمانت مل چکی ہے، ان کی ضمانت کی خبر تمام میڈیا چینلز پر نشر ہوئی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان بالکل درست کہتے ہیں، پاکستان میں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے‘۔

پی ٹی آئی نے بھی پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپے کی شدید مذمت کی اور اسے انتخابات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

عمران خان ردعمل

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’گھر میں موجود خواتین اور اہلخانہ کے عزت و احترام سے مکمل بے نیاز ہو کر پرویز الہٰی کےگھر پر مارےگئے غیر قانونی چھاپےکی شدید مذمت کرتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی نگاہوں کے سامنے پاکستان میں جمہوریت کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ رہے ہیں، آئین، عدالتی احکامات یا عوام کے بنیادی حقوق کا کچھ بھی احترام باقی نہیں‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں