صحافت کا عالمی دن : پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں دو تہائی اضافہ

پاکستان کا شمار عالمی سطح پر صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں پر حملوں میں تقریباً دو تہائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس ملک کا شمار عالمی سطح پر صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

گذشتہ برس پاکستان میں کم از کم پانچ صحافیوں کو قتل کر دیا گیا۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ انصاف کے مروجہ نظام میں کسی طرح صحافیوں کے خلاف جرائم میں کمی پر توجہ دی جائے لیکن ارباب حل و عقد کو اس پر اب تک خاطر خواہ توجہ دینے کا وقت نہیں ملا ہے۔

ذرائع ابلاغ اور ان کے کارکنوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک پاکستانی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی عالمی یوم آزادی صحافت کی مناسبت سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلے بارہ ماہ میں صحافیوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کے140 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جو اس سے پچھلے سال کی نسبت63 فیصد زیادہ ہیں۔

آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان کا شمار اُن ممالک میں کیا جاتا ہے جو صحافیوں کے حوالے سے خطرناک اور غیر محفوظ تصور کیے جاتے ہیں، گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 170 پاکستانی صحافی جان کی بازی ہار گئے۔

آج آزادی صحافت کا عالمی دن ہے تاہم یہ دن پاکستان میں آزادی صحافت پر سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان میں آمریت ہو یا جمہوریت، آزادی صحافت ہر دور میں خواب ہی رہی۔

واضح رہے گذشتہ 3 دہائیوں کے دوران 70 سے زائد صحافی دہشت گرد حملوں کی زد میں آئے جبکہ 170 کے قریب فرض کی ادائیگی کے دوران مختلف واقعات میں جان سے چلے گئے ۔

ملک میں صحافت اور صحافی غیر محفوظ ہیں جبکہ اربارب اختیار کو شاید پرواہ ہی نہیں ۔ اگر صرف سال 2022 کی بات کی جائے تو صحافیوں کو ہراساں کرنے اور حملوں کے 140 کیسز سامنے آئے، جن میں 8 خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔

گذشتہ ایک سال میں صحافیوں کیخلاف 56 واقعات کے ساتھ اسلام آباد پہلے، 35 واقعات کے ساتھ پنجاب دوسرے اور 32 کیسز کے ساتھ سندھ تیسرے نمبر پر رہا۔

پاکستان میں 170 کے قریب صحافی لائن آف ڈیوٹی مارے گئے، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف دو صحافیوں کا کیس منطقی انجام تک پہنچا، ایک تو ظاہر ہے ڈینئل پرل تھے، امریکی صحافی اور دوسرا ولی خان بابر کا کیس تھا باقی کسی کیس کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دباؤ دھونس اور دھمکیاں جھیلتے صحافی ہر لمحہ جان لیوا خطرات میں ہی گھرے نہیں رہتے ہیں، بلکہ اکثر مار بھی دیئے جاتے ہیں، ان ہی وجوہات کی بنا پرپاکستان صحافت کیلئے خطرناک ترین مملک کی فہرست میں شامل ہے۔

پاکستان میں صحافیوں اور آزادی صحافت پر حملے اتنا بڑا مسئلہ بن چکے ہیں کہ ابھی حال ہی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں ملک میں صحافیوں پر حملوں اور ان کے خلاف پرتشدد جرائم کی مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں