اسلام آباد میں پاک چین وزراء خارجہ کے درمیان تزویراتی مکالمے کاچوتھا دور

سیاسی، تزویراتی اوراقتصادی روابط، دفاع،سلامتی، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان اورچین کے وزراء خارجہ کے درمیان تزویراتی مکالمے کا چوتھا دورہفتے کے روز اسلام آباد میں ہواہے،اس میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، تزویراتی، اقتصادی، دفاع، سلامتی، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر چین کے اسٹیٹ کونسلر اور وزیرخارجہ چِن گانگ نے پاکستان کا پہلا دوروزہ سرکاری دورہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاک چین تزویراتی ڈائیلاگ کے چوتھے دور کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔انھوں نےنومبر2022 میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے بیجنگ کے دورے کے موقع پردونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے شدہ اتفاق رائے اور گہری علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک چین تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پراتفاق کیا ہے۔

وزراء خارجہ نے پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اوراس بات پر زوردیا کہ پاک چین دوستی ایک تاریخی حقیقت ہے اور یہ دونوں ممالک کا شعوری انتخاب ہے۔

طرفین نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق امور پر اپنی مستقل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔چین نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کے اتحاد، استحکام اور اقتصادی خوش حالی کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے بھی ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت تمام بنیادی مسائل پر چین کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔طرفین نے 2023 میں سی پیک کی ایک دہائی کی تکمیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے سی پیک کو بیلٹ اورروڈاقدام کی ایک روشن مثال کے طور پر سراہا جس نے پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کے عمل کو تیز کیا ہے۔

طرفین نے سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس کے منصوبوں پرپیش رفت پر اطمینان کا اظہارکیا۔انھوں نے سی پیک فریم ورک کے تحت ایم ایل ون منصوبے کی کلیدی اہمیت کا اعادہ کیا اوراس کے جلدسے جلد نفاذ کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔انھوں نے زراعت، سائنس اورٹیکنالوجی، آئی ٹی اور قابل تجدید توانائی کے ساتھ ساتھ کراچی سرکلرریلوے کے منصوبوں کو فعال طور پر آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

مکالمے میں دونوں ملکوں نے گوادر میں فرینڈ شپ اسپتال اور نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (این جی آئی اے)سمیت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اورگوادرکواعلیٰ معیار کی بندرگاہ اور علاقائی تجارت اور رابطوں کا مرکز بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔دونوں ممالک نے کہا کہ کہ سی پیک تعاون کا ایک کھلا اور جامع پلیٹ فارم ہے اور تیسرے فریقوں کو سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی دعوت دی۔ پاکستان نے چین کی جانب سے اقتصادی اورمالی مدد بالخصوص سیلاب کے بعد تعمیر نوِاور بحالی کے لیے اس کے فراخدلانہ امدادی پیکج پر شکریہ ادا کیا۔

مکالمے کے بعد جاری کردہ مشترکہ کے مطابق طرفین نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔چین نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کیا اورملک میں جاری چینی منصوبوں،وہاں تعینات چینی اہلکاروں اور اداروں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے علاوہ داسو، کراچی اور دیگر حملوں میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کو گرفتارکرکے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

طرفین نے سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پربھی اتفاق کیا۔ اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے کثیرالجہت فورمز پرعلاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر اپنے تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان اور چین کے باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے رابطوں اور تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد ، اصولوں ،کثیرالجہت آزاد تجارت اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

بیان کے مطابق پاکستان نے کہا کہ وہ چین کی طرف سے پیش کردہ عالمی ترقیاتی اقدام اور عالمی سلامتی اقدام (گلوبل سکیورٹی انیشیٹو) کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے چین کی جانب سے تجویز کردہ عالمی تہذیبی اقدام کا بھی خیرمقدم کیا۔طرفین نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت اور تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

مکالمے کے دوران میں پاکستان نے چینی وفدکو جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع کشمیر تصفیہ طلب ہے اور اسے اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق منصفانہ انداز میں اور پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔طرفین نے ایسے کسی بھی یک طرفہ اقدام کی مخالفت کی جو پہلے سے غیر مستحکم صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امن واستحکام خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی، روابط اور خوش حالی کے لیے ناگزیر ہے،

پاکستان اور چین نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک پرامن، مستحکم، خوش حال اور متحد افغانستان کے لیے مل کر کام کریں جودہشت گردی کا مضبوطی سے مقابلہ کرے گا۔انھوں نے بین الاقوامی برادری پرزوردیا کہ وہ افغانستان کو مسلسل امداد مہیا کرے اورافغانستان کے بیرون ملک موجود مالیاتی اثاثوں کو غیرمنجمد کیا جائے جبکہ افغان عوام کے لیے انسانی اور معاشی امداد جاری رکھنے اور افغانستان میں سی پیک کی توسیع سمیت افغانستان میں ترقیاتی تعاون کوآگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں