کس کے کہنے پر فوج کے خلاف مہم چلائی؟ شہباز شریف کا عمران خان سے سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے وزیر آباد حملے کے قابل مذمت واقعہ کو گھٹیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا، ان کی سیاست جھوٹ، یوٹرن اور اداروں پر گمراہ کن حملوں سے عبارت ہے۔

منگل کے روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے ٹوئٹ کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد پاک فوج کو بدنام کرنے کےلئے بنائی گئی ٹرول بریگیڈ کے ہوتے دشمن کی ضرورت نہیں، مسلح افواج کے شہداء کے خلاف عمران خان وزیر آباد حملے سے پہلے بھی پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں پر کیچڑ اچھال رہے تھے۔

شہباز شریف کو مزید بتایا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی سیاست کی تعریف صریحاً جھوٹ،یو ٹرن اور اداروں پر گمراہ کن حملوں سے عبارت ہے۔ اس کا مقصد عدلیہ کو اپنی مرضی کے مطابق جھکانا اور ایسا برتائو کرنا ہے جیسا آپ پرکوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں (وزیر اعظم ) نے اپنے ٹویٹ میں جو کچھ عمران خان کے بارے میں کہا ہے وہ پچھلے کچھ برسوں کے حقائق سے ثابت ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے ٹویٹ میں عمران خان سے جواباً سوال کیا کہ کیااقتدار سے بے دخلی کے بعد پاک فوج کو بطور ادارہ بدنام کرنا آپ (عمران خان )کی سیاست میں بار بار ہونے والا عمل نہیں؟ کیا آپ نے وزیر آباد حملے سے پہلے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی کی قیادت پر کیچڑ اچھالنے کا سہارا نہیں لیا؟روزانہ کی بنیاد پر دھمکیاں دینے اور بے بنیاد الزامات لگانے کے علاوہ آپ نے کون سا قانونی راستہ اختیار کیا؟ آپ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تعاون کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور قانونی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ آپ کو وزیر آبادحملے کے حقائق جاننے میں کبھی دلچسپی نہیں تھی لیکن آپ نے اس قابل مذمت واقعہ کو گھٹیا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد مسلح افواج کے شہدا کے خلاف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز مہم کس کے کہنے پر شروع کی گئی؟ وہ ٹرول بریگیڈ کس پارٹی سے تعلق رکھتی تھی جس نے شہدا کا مذاق اڑایا، ٹرول بریگیڈکی مہم ہماری سیاست اور ثقافت میں ایک نیا گھٹیا اور ناقابل تصور عمل تھا۔ آپ کی طرف سے ان تخریبی؍غدارانہ کارروائیوں کے ہوتے ہوئے کیا ہمیں دشمن کی ضرورت ہے؟

وزیر اعظم نے کہا کہ کس نے سیاسی احتجاج کے دوران مذہبی اصطلاحات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا؟ کیا سیاسی مخالفین کو اپنے حامیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنا نا ایک چالاک اور خود غرضانہ کوشش نہیں؟ کیا عقیدت و احترام کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں ایک خاتون وزیر سمیت سرکاری وفد کو ہراساں نہیں کیا گیا اور آپ کے پارٹی رہنمائوں نے اس کا جواز پیش نہیں کیا اورجشن نہیں منایا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سابق وزیر اعظم کے طور پر اس وقت عمران خان کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے اور وہ قانونی اور سیاسی نظام کو الٹنے کے جواز کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کے’’جنگل‘‘ بننے کے آپ کے دعوے کا تعلق ہے، میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ حقائق اکثر تلخ اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ آئیے اسے کسی اور دن کے لیے رکھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں