’’یہ کیسی محبت کہانی ہے، یہ کیا انصاف کا دُہرامعیار ہے؟‘‘

عمران خان کی گرفتاری کوغیرقانونی قراردینے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پرلیگی وزراء کا اظہارِبرہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان میں حکمران اتحاد کی قیادت کرنے والی مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے سابق وزیراعظم اورپی ٹی آئی چیئرمین کے عمران خان کی گرفتاری کو 'غیر قانونی' قرار دیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور حکم کو ’انصاف کے دُہرے معیار' کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

عمران خان کو القادرٹرسٹ کیس میں منگل کی سہ پہر اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا۔وہ دو دیگر مقدمات کی سماعت میں شرکت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

سابق وزیراعظم کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ان میں آٹھ افراد ہلاک، متعدد زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں کو پولیس کارروائی کے دوران میں حراست میں لے لیا گیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں آتش زدگی کے کئی واقعات پیش آئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قراردیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے آج ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ انھیں اسلام آباد میں پولیس لائنز کے گیسٹ ہاؤس میں رکھا جائے لیکن کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی پیشی تک انھیں بطور مہمان عدالت کی نگرانی میں رکھا جائے۔

مسلم لیگ نوازکے رہ نما اوروزیردفاع خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں اپنے تئیں عدالتِ عظمیٰ کے ’انصاف کے دُہرے معیار‘کواجاگرکیا ہے۔انھوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور جماعت کے کئی دیگر رہ نماؤں اور کارکنوں کو ماضی میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن عدالت نے ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کیا تھا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ اچھا سلوک صرف عمران خان کے لیے ہی مخصوص ہے اور پھر انھیں ایک ریسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم۔اس ملک میں دُہرا معیار کیوں ہے؟

اس سلسلے میں وزیر دفاع نے عمران خان کی گرفتاری سے قبل جاری کی گئی ایک ویڈیو کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’’کیا اس ویڈیو پیغام میں عمران خان نے تشدد کی ترغیب اور تبلیغ نہیں کی تھی؟ اور اس تشدد کا نتیجہ کیا نکلا؟‘‘

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے مظاہرین پر شہداء کی قبروں اور فوجی تنصیبات پر حملے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان قبروں کی بے توقیری کی گئی اور لاہور میں فوج کی تنصیبات اور کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ عدالت کو ان معاملات کا ازخود نوٹس لینا چاہیے تھا لیکن کوئی سوموٹو نہیں لیا گیا اور عدلیہ کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ تاہم ایک شخص (عمران) کو عزت کے ساتھ ریسٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عمران خان کو تمام سہولتیں مہیّا کی جائیں اور (گیسٹ ہاؤس میں) دس لوگوں سے ملنے کی اجازت بھی دی جائے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’میرا واحد سوال یہ ہے کہ یہ دُہرا معیار کیوں ہے؟‘‘اس سلسلے میں انھوں نے ان آڈیو کلپس کا بھی حوالہ دیا جن میں مبیّنہ طور پر احتجاج کے دوران میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو دکھایا گیا تھا اور صحافیوں سے کہا کہ’’آپ سب نے دیکھا اور سنا پی ٹی آئی کے رہنما اپنے حامیوں کو کیا بتا رہے تھے، انھوں نے کیا زبان استعمال کی اور کس طرح انھوں نے (املاک کو) جلایا۔کیا یہ قومی سلامتی پر حملہ نہیں تھا؟ کیا یہ ملک سے دشمنی نہیں تھی؟ کیا اس کا نوٹس نہیں لیا جانا چاہیے؟ کیا اس نے عدالت کا رخ نہیں کیا؟‘‘

خواجہ آصف سے قبل مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’’چند سو مسلح مظاہرین اور دہشت گرد ملک اور ریاستی املاک پرحملے کر رہے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ ایک منصوبے کے تحت مخصوص مقامات پربھیجے گئے تھے اور گرفتاری کی خبرکے فوراً بعد انھیں حرکت میں لے آیاگیا تھا۔

اپنے دعوے کے حق میں انھوں نے آڈیو کلپس کا حوالہ دیا جن میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی آوازیں ہیں جو پارٹی کارکنوں کو املاک پر حملے کے لیے اکسا رہےہیں۔انھوں نے کہا کہ آپ سب نے دیکھا کہ کس طرح پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے تشدد کو بھڑکایا اور عمران خان کی ہدایت پر حملوں کے احکامات دیے تھے۔

انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری قانونی طریقے سے کی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے ایک مجرم، دہشت گرد اور مسلح گروہوں کی قیادت کرنے والے گینگسٹر کو ریلیف دینے کا تاثر ایک دہشت گرد کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں کو گرفتاریوں اور چھاپوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی نے کوئی سوال نہیں اٹھایا کیونکہ یہ سب ایک لاڈلے کی حمایت میں کیا گیا تھا،جس نے خود سپریم کورٹ کی بے توقیری کی تھی۔

انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’اگر یہ محبت اس وقت ختم ہو جاتی تو پھر چیف جسٹس صاحب، عدالت کی اس طرح بے عزتی نہ ہوتی جس طرح آج ہو رہی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’عدالت کی بے توقیری اس وقت کی جاتی ہے جب وہ مجرموں، دہشت گردوں اور مسلح گروہوں کی پناہ گاہ بن جاتی ہیں۔اس وقت عدالتوں، آئین اور انصاف کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔عدالتوں کی بے عزتی تب کی جاتی ہے جب ان کے فیصلے مجرموں کی حمایت میں ہوتے ہیں‘‘۔

انھوں نے دلیل دی کہ ’’اگر عدالت ’’دہشت گردوں‘‘اور’’مسلح گروہوں‘‘کی حمایت کرے گی جنھوں نے میرے ملک کو آگ لگا دی ہے، تو باقی سب بھی اس راحت ورعایت کے مستحق ہیں‘‘۔

مریم اورنگ زیب نے خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص پاکستان کے عوام، پولیس اہلکاروں اور ملک، ریاست اور قوم کی خاطر ہتھیار اٹھانے والے فوجی افسروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر عدالت اس کو ریلیف دے دیتی ہے تو یہ ملک جل جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا:’’میڈیا، سوشل میڈیا پر یہ چل رہا ہے کہ ایک شخص نے گذشتہ تین روز سے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ وہ تشدد کو بھڑکا رہا ہے اور آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ اسے کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے؟آپ اس شخص کی گرفتاری کا معاملہ اٹھا رہے ہیں لیکن اس کی کرپشن کا معاملہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ ’’جب نوازشریف اور ان کے خاندان کا احتساب ہوا تو پھر عمران خان کیوں نہیں؟یہ محبت، اقربا نوازی اور جانبداری کیا ہے؟‘‘انھوں نے کہا کہ عدالت کوعمران خان کو طلب کرنے کے بجائے انھیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے جوابدہ ہونے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کرے۔ اسی کی تحویل میں عمران خان کو القادرٹرسٹ کیس میں ریمانڈ پربھیجا گیا تھا۔یہ وہ تاثر ہے جس کے نتیجے میں عدالتوں اورعہدوں کی بے حرمتی اوربے توقیری ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں