لاہور ہائی کورٹ نے یاسمین راشد سمیت 17 خواتین کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیے جانے پر شرمندہ ہوں: خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لاہور ہائی کورٹ نے گرفتار پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 17 خواتین کی نظر بندی کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا۔

جسٹس صفدر سلیم شاہد نے ذوالفقار کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے نظربندی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور پی ٹی آئی خواتین ورکرز کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا نام شامل نہیں اور انہیں ’غیر قانونی حراست‘ میں لیا گیا۔

عدالت نے پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی معطل کرکے ڈاکٹر یاسمین راشد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ اگر ڈاکٹر یاسمین راشد کسی مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

عمران خان ضمانت

اسلام آباد ہائی کورٹ سے 12 مئی کو چار مقدمات میں حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان آج زمان پارک میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم مشاورت کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اپنے کیسز، گرفتار پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

رات گئے زمان پارک پہنچنے کے بعد عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کارکنان موجود ہیں۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم کی سکیورٹی بھی واپس پہنچ گئی ہے۔ عمران خان کی سکیورٹی پر 106 پولیس اہلکار تعینات ہیں جو تین شفٹوں میں ڈیوٹی کریں گے۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ کارکنان کے غم و غصے کی وجہ سے سول کپڑے پہنے ہیں۔

سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث گرفتار افراد کی تعداد 2829 تک پہنچ گئی ہے۔پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ اس کے زیر استعمال 72 گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور ان کو جلایا گیا۔

آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ ’جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور املاک نذر آتش کرنے والے شرپسند عناصر کو شناخت کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘

چھاپوں پر وزیر دفاع کا اظہار ندامت

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، ذاتی طور پر شرمندہ ہوں اور معافی کا خواستگار ہوں۔

سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں 3، 4 روز سے ملک سے باہر تھا، واپس آیا ہوں تو پتا چلا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف: فائل فوٹو
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف: فائل فوٹو

سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں عثمان ڈار کی والدہ اور دیگر سیاسی برادری جن کے گھر پر یہ واقعات ہوئے ہیں ان سے معذرت خواہ ہوں، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا سلوک روا رکھا جائے گا، انتظامیہ کا کچھ نہیں جاتا لیکن یہ میرے لیے باعث شرم ہے، میرے اس بیان کا سیاست ست کوئی تعلق نہیں ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری سیاست کی ڈکشنری میں انتقام کا لفظ موجود نہیں ہے، میں ذاتی طور پر شرمندہ ہوں اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، میں ان تمام فیملیز سے معافی کا خواستگار ہوں جن کا تقدس مجروح ہوا ہے اور ان کے گھر جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھے اس سب کا قطعی طور پر علم نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں