بیل آؤٹ پیکج کےلیے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات میں کوئی تبدیلی نہیں کی:آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی بیرونی مالیات (فنانسنگ) کی ضروریات میں بات چیت کے دوران میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔

یہ بات پاکستان میں آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ایستھرپیریزروئزنے اتوار کوایک وضاحتی بیان میں کہی ہے۔ انھوں نے مقامی میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان سے 8 ارب ڈالر کی نئی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے کَہ رہا ہے‘‘۔

پیریزروئز نے کہاکہ ’’بات چیت کے دوران میں بیرونی فنڈنگ کی ضروریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔ایک جائزے کے تحت آئی ایم ایف کے 6.5 ارب ڈالر کے پیکج کے حصے کے طور پرنقدرقوم کی عدم دستیابی کے بحران سے دوچار پاکستان کے لیے 1.1 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا آغاز کرے گا۔

اس جائزے پرعملہ کی سطح کا معاہدہ نومبر سے تاخیرکا شکار ہے اور پاکستان میں عملہ کی سطح کے آخری مشن کوقریباً 100دن گزرچکے ہیں جو کم سے کم 2008 کے بعد سے اس طرح کی سب سے طویل تاخیر ہے۔

جمعرات کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اس بات کا اعادہ کیاتھا کہ بیل آؤٹ فنڈزکے اجراء کی منظوری سے قبل پاکستان کے لیے دوست ممالک سے بیرونی فنانسنگ کے وعدوں کا حصول ضروری ہوگا۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین مارچ اور اپریل میں اس وعدے کے ساتھ پاکستان کی مددکوآئے تھے کہ وہ فنڈنگ کے خسارے کا کچھ حصہ پورا کریں گے۔

دریں اثناء سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر سات کروڑ چالیس لاکھ (74 ملین)ڈالر کم ہوکر 4.38 ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور یہ صرف ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے جمعرات کوایک سیمی نار میں کہا تھاکہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ یا اس کے بغیرڈیفالٹ نہیں کرے گا اورآئی ایم ایف کی شرائط کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کسی اضافی سخت اقدام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پاکستان نے کم آمدن صارفین کے لیے ایندھن پرزرِتلافی (فیول کراس سب سِڈی) اسکیم کے نفاذ کافیصلہ بھی واپس لے لیاہے۔اس پرآئی ایم ایف نے تشویش کا اظہارکیاتھا۔

آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ مس پیریزروئز نے کہا کہ پاکستانی حکام نے گذشتہ ماہ موسم بہار کے اجلاسوں میں آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مالی سال 2023ء یا اس کے بعد کراس سب سِڈی اسکیم متعارف نہیں کرائیں گے۔ایسی اسکیم عام طور پررجعت پسندانہ ہوتی ہے اور اس کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔اعلان کردہ ایندھن کراس سب سڈی اسکیم سے نئے نیم مالی مسائل اور ادائی کے توازن کے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں اور اس میں فراڈ کے بھی امکانات ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں