اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی رہنماشیریں مزاری اورفلک نازکو فوری رہاکرنے کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔

تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اُن کی صاحبزادی ایمان مزاری نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست گزار کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے نقصِ امن کے خدشے کے پیش نظر شیریں مزاری کی گرفتاری کا آرڈر جاری کیا۔ شیریں مزاری پر کارکنوں کو اُکسانے اور اشتعال دلانے کا الزام ہے۔

شیریں مزاری نو مئی کے بعد سے گھر پر تھیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر ریکارڈ سے بھی اُن کی گھر پر موجودگی کو چیک کیا جا سکتا ہے۔‘

عدالت نے استفسار کیا کہ ’یہ بتائیے کہ ان کی عمر کیا ہے؟‘ جس پر ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ نے بتایا کہ ان کی عمر 72 سال ہے، میڈیکل ایشوز بھی ہیں۔

اس کے علاوہ عدالت نے سینیٹر فلک ناز کو بھی فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کو شرپسندوں کو ہنگاموں کے لئے اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں