قومی اسمبلی نے توہین پارلیمنٹ بل کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قومی اسمبلی نے توہین پارلیمنٹ [تحقیر مجلس شوریٰ ]بل 2023 کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب افراد کو جرم ثابت ہونے پر 6 ماہ کی سزا یا ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

منگل کو قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے بل پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ رانا محمد قاسم نے تحریک پیش کی تحقیر پارلیمنٹ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔

ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بل کی یکے بعد دیگرے تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی۔

بل کے تحت پارلیمنٹ کی کی تحقیر ثابت ہونے کے بعد فیصلے پر عمل درآمد کی ذمہ داری جو ڈیشل مجسٹریٹ کے پاس ہوگی ،اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی ایوان کے مشترکہ اجلاس میں 30 دن کے اندر دائر کی جا سکے گی ۔

ایکٹ کے تحت تحقیر پالیمنٹ کمیٹی ایوان کے حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں پر مشتمل ہوگی ۔کمیٹی کے چیئرمین کسی بھی فرد کو کمیٹی کے سامنے طلب کر سکیں گے۔

کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں پارلیمنٹ کے ایوان کو جرمانہ یا سزا کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ بل کی منظوری کا مقصد پارلیمنٹ کے وقار اور بالادستی کو یقینی بنانا ہے تاکہ کوئی بھی شخص اس پارلیمنٹ کے فیصلوں اور اقدامات کی توہین نہ کرسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں