کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلوں کے بعد تحریک انصاف کا جوابی اعلامیہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان تحریک انصاف نے کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان کو پرتشدد واقعات کے پیچھے سوچے سمجھے منصوبے کی موجودگی کا احساس ہونا درست سمت میں پیش رفت ہے۔

منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کور کمانڈر کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے کو نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق حالیہ تشدد و انتشار کے واقعات کے پیچھے افواج پاکستان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے کارفرما ہونے کا احساس ہوا ہے جو درست سمت میں ایک پیش رفت ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پیر کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ پاکستانی قوانین، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پی ٹی آئی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’چیئرمین تحریک انصاف کے 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے رینجرز کے ذریعے اغواء کے نتیجے میں پرامن احتجاج ایک فطری نتیجہ تھا، اور آئین پاکستان پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔‘

’افراتفری و فساد کی آڑ میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت اور افواجِ پاکستان کو مدّمقابل لانے کی کوشش کی گئی۔‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ناقابلِ تردید شواہد دستیاب ہیں کہ پرامن مظاہرین کی صفوں میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلّح انتشار پسند داخل کیے گئے جنہوں نے جلاؤ گھیراؤ کو ہوا دی اور پرامن نہتّے شہریوں پر گولیاں برسائیں۔‘

’منصوبہ یہ تھا کہ افراتفری پھیلائی جائے جس کا الزام تحریک انصاف کو دے کر اس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا جواز تراشا جاسکے۔‘

’27 سالہ پرامن سیاسی، قانونی اور آئینی جدوجہد کے دوران چیئرمین عمران خان پر 3 نومبر کے قاتلانہ حملے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے جب عام شہریوں کے ساتھ ہمارے کارکنوں کو بڑے پیمانے پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔‘

اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف آئین و قانون کی بالادستی پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے، ’دستورِ پاکستان ہماری انفرادی و اجتماعی رہنمائی کا وسیلہ ہے۔‘

’ہماری نگاہ میں جج، جیوری اور جلاد کو ایک ایک ہی فرد یا ادارے میں جمع کرنے کی ایک مہذب، جمہوری و آئینی نظام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری، صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے ذریعے فیصلہ سازی کا حق عوام کو واپس لوٹایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں