نومئی کے واقعات کے منصوبہ سازوں اورقائدین کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائےگا:وزیراعظم

جن لوگوں نے تشدد کے واقعات کی منصوبہ بندی کی، دوسروں کو توڑ پھوڑ پراکسایا، وہ سب یقیناً دہشت گردی کے مجرم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں 9 مئی کے واقعات کے منصوبہ سازوں اور قائدین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔ انھوں نے ہماری فوجی تنصیبات پر حملے کیے اور ’’ہمارے شہیدوں‘‘کی بے حرمتی کی ہے۔

انھوں نے کہا:’’پاکستان میں 9 مئی کو جو کچھ بھی ہوا، اسے اس ملک کی تاریخ میں سیاہ ترین باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔اس طرح کی گھناؤنی اسکیم کبھی نہیں دیکھی۔ وہ (بلوائی) جی ایچ کیو راول پنڈی، میانوالی ایئربیس اور فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر گئے۔ ہم نے گزشتہ 75 سال میں ایسی گھناؤنی اسکیم کبھی نہیں دیکھی‘‘۔

وزیراعظم شہباز شریف منگل کے روز اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور دیگر اعلیٰ سکیورٹی حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں گذشتہ منگل کو رونما ہونے والے تشدد آمیز واقعات اور مستقبل میں ان سے نمٹنے کے طریقوں کا تفصیل سےجائزہ لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’میرا یہ ماننا ہے، جس نے بھی اس کی منصوبہ بندی کی، لوگوں کو توڑ پھوڑ پر اکسایا، وہ سب یقیناً دہشت گردی کے مجرم ہیں، لیکن وہ ایسا کام کرنے میں کامیاب رہے ہیں جو پاکستان کا ازلی دشمن گذشتہ پون صدی میں نہیں کر سکا ہے‘‘۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 9 مئی ایسے واقعات کودوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے قانونی، آئینی اور انتظامی اقدامات پر زور دیا ہے اور کہا کہ ان پُرتشدد مظاہروں نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا اور کروڑوں لوگ آج بھی ناراض اورپریشان ہیں۔ ان ہولناک واقعات سے پاکستان کا تشخص مجروح ہوا اور اس کی بدنامی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پاک فوج کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتا ہے، ان واقعات کی مذمت کرتا ہے اور قانون اپنا کام کرے گا۔ کسی کو بھی غیر منصفانہ طور پر سزا نہیں دی جائے گی لیکن جو لوگ قصور وار ہیں، انھیں بخشا نہیں جائے گا۔

وزیراعظم نے خاص طور پر کور کمانڈر لاہور کی اقامت گاہ جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان کی محبت کو آگ لگانے کے پیچھے کیا نظریہ، گروہ یا کون شخص کارفرما تھا۔ انھوں نے کہا کہ جناح ہاؤس صرف ایک عمارت نہیں ہے۔ اس نے پاکستان کی حفاظت کرنے والے بیٹوں کو پناہ دی۔ لیکن انھوں نے اسے تباہ کر دیا۔درحقیقت اس کو آگ لگا کر راکھ میں تبدیل کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے 22 کروڑ عوام کا مطالبہ ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو سزا دی جائے تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ کبھی نہ ہوں۔

دریں اثناء انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام شہریوں پر فوجی قوانین کے تحت مقدمات نہیں چلائے جانے چاہییں۔ بین الاقوامی تنظیم کا یہ بیان ایک روز قبل پاکستان کی فوجی قیادت کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس اجلاس میں پاک آرمی کے کور کمانڈرز نے سول اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوجی قوانین کے تحت مقدمات چلانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں