عامر کیانی کا سیاست اور تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر کیانی نے بھی پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

عامر کیانی نے پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ 23 سال کا میرا سفر ہے، پارٹی کے ساتھ بہت کام کیا، میرے اوپر سات آٹھ پرچے بھی ہوئے، 9 مئی کے واقعات نے بڑی تکلیف دی، میرا خیال ہے سیاسی لوگوں کی طرح سیاست کرنی چاہیے۔

عامر کیانی کا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہے اور پیشہ وارانہ لحاظ سے وہ ایک وکیل ہیں جن کا شمار پاکستان کے مشہور وکلا میں ہوتا ہے۔ عامر محمود کیانی پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جس کے بعد انہوں نے اگست 2018 میں وزیر صحت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ یہ وہ شعبہ تھا جو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی ترجیحات میں شامل تھا۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات میں عامر محمود کیانی نے این اے 61 پر ایک لاکھ 5 ہزار ووٹ حاصل کرکے مسلم لیگ (ن) کے ملک ابرار احمد کو شکست دی تھی۔

18اگست کو عمران خان نے اپنی وفاقی کابینہ کے ڈھانچے کا باضابطہ اعلان کیا اور کیانی کو نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کا وزیر نامزد کیا۔ 20 اگست 2018 کو انہوں نے عمران خان کی وفاقی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کے طور پر حلف اٹھایا۔

عامر محمود کیانی پی ٹی آئی کے ان ممبران میں شامل تھے جنہیں سابق وزیراعظم کی جانب سے بہت پہلے ہی اپنی کابینہ کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔

18اپریل 2019 کو عمران خان نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے عوامی دباؤ کے باعث عامر محمود کیانی کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس طرح 20 اگست سے شروع ہونے والا وزارت کا یہ سلسلہ 18 اپریل کو ختم ہو گیا تھا اور ان کی جگہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو معاون خصوصی برائے صحت تعینات کیا گیا تھا۔

دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما اور کراچی سے رکن قومی اسمبلی محمود مولوی بھی گزشتہ روز تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایم این اے کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

گذشتہ روز انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چھوڑنے کی وجہ فوج کے خلاف بات کرنا ہے کیوں کہ میں اپنے ملک کی فوج کے خلاف نہیں جاسکتا، جو کچھ بھی ہوا وہ غلط ہوا۔

فوج کے بغیر یہ ملک نہیں چل سکتا، سیاسی جماعتیں بدلی جاسکتی ہیں فوج نہیں بدل سکتے۔فوج کے نام پر سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا باپ وہ کام نہ کر سکا جو ان لوگوں نے کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں