پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ’شاہراہ مکہ اقدام‘ سےمتعلق سمجھوتے پردست خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ’شاہراہ مکہ اقدام‘کے مکمل نفاذ اور توسیع سے متعلق سمجھوتا طے پاگیا ہے۔اس ضمن میں مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کے لیے تقریب بدھ کو وزیراعظم ہاؤس،اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔اس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔

پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان اور سعودی عرب کی جانب سے سعودی نائب وزیر داخلہ ڈاکٹرناصربن عبدالعزیزالداؤد نے مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کیے۔یہ سمجھوتا پاکستان عازمین حج کے امیگریشن کے عمل کو آسان اور ہموار بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس سے پہلے ایک اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ خان اور سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ ناصر بن عبدالعزیز الداؤد نے عازمین حج کے لیے پاکستان میں شاہراہ مکہ اقدام (روڈ ٹو مکہ منصوبہ) کے مکمل نفاذ اورتوسیع پراتفاق کیا اور کہا کہ اس منصوبے کے تحت عازمینِ حج کو پاکستان ہی میں سعودی عرب کی امیگریشن کی سہولت میسر ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللّٰہ اور سعودی نائب وزیرداخلہ ڈاکٹر ناصربن عبدالعزیز الداؤد کے درمیان وفود کی سطح پربات چیت ہوئی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالرحمٰن کانجو، سیکریٹری داخلہ سیدعلی مرتضیٰ اور دیگرحکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔‏اس میں پاک سعودی دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے دیگرامور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس بات چیت میں شاہراہ مکہ اقدام کواگلے مرحلے میں کراچی اورلاہورکے ہوائی اڈوں سے بھی شروع کرنے پراتفاق کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستان عازمین حج اس سہولت سے مستفید ہوسکیں۔وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ اس اقدام نے پاکستانی حجاج کو بے پایاں سہولت مہیاکی ہے اور اس ضمن میں ہم سعودی حکومت کے شکرگزارہیں۔

سعودی نائب وزیر داخلہ نے کہا کہ سعودی عرب کی خواہش تھی کہ اس منصوبے کا آغاز سب سے پہلے پاکستان سے کیا جائے۔اجلاس میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے برمی مسلمانوں کے مسئلے کو بھی باہمی مشاورت اور رضامندی سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیر داخلہ کے استفسار پر سعودی نائب وزیرداخلہ نے بتایا کہ سعودی جیلوں میں معمولی جرائم میں قید 108 پاکستانی شہریوں کو رہا کردیا گیا ہے، جبکہ کئی قیدیوں کے کیسز کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔انھوں نے ایسے قیدیوں کی جلد رہائی ممکن بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کی امورداخلہ کی وزارتوں کے درمیان روابط کو مزید بہتر بنانے پراتفاق کیا گیا۔

وزیرداخلہ راناثناء اللہ نے سعودی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہاکہ شاہراہ مکہ اقدام کے تحت اسلام آباد ائیر پورٹ سے 26 ہزار حجاج کرام کو سہولت مہیا ہوگی۔ نائب وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ تعداد 40 ہزار تک بڑھائی جائے گی اورآیندہ سال لاہور اور کراچی کے حجا ج کرام کو بھی یہ سہولت مہیا کی جائے گی ۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا سعودی عوام کے ساتھ محبت کا رشتہ ہے ،ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے محبت، انسیت اور عقیدت رکھتے ہیں ۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو قائم ہوئے 75سال ہوچکے ہیں لیکن سرزمین حجاز کے ساتھ ہماری روحانی اور جذباتی وابستگی کئی صدیوں پرمحیط ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب 20 لاکھ پاکستانیوں کو باوقار ذریعہ معاش مہیّا کررہا ہے ، پاکستان سعودی عرب کی ترقی اور خوش حالی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ہم سعودی عرب کے ساتھ دوستی کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم پوری قوم اوروزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے خادم الحرمین الشریفین کی صحت کے لیے دعاگو ہیں اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دورۂ پاکستان کی دعوت دیتے ہیں ۔

اس موقع پرسعودی نائب وزیر دفاع نے اپنے وفد کی طرف سے بھرپور استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اورکہا کہ مہمان نوازی پاکستانیوں کی بہت پرانی صفت ہے ،جب میں نے اپنے کیرئیرکا آغاز کیا تو ہر لمحے پاکستانیوں کو اچھا پایا۔انھوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعلقات کی طویل تاریخ ہے، ہم ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کی ترقی اورخوش حالی کے لیے دعاگو ہین۔

مقبول خبریں اہم خبریں