اسلام آباد ہائی کورٹ کا شاہ محمود قریشی اور شہریار آفریدی کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو جمعرات کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی نو مئی کو گرفتاری کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد پولیس نے 11 مئی کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی تھری ایم پی اوکے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

شاہ محمود قریشی کی نظربندی کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی پرکوئی مقدمہ ہے۔ اسٹیٹ کونسل نے عدالت کو جواب دیا کہ مجھے معلوم کرنا ہوگا کہ کوئی مقدمہ ہے کہ نہیں۔ شاہ محمود قریشی کے وکیل نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ شاہ محمود قریشی نے ویڈیو بیان دیا کہ کوئی توڑ پھوڑ نہ کرے۔

شاہ محمود قریشی کے وکیل نے کہا کہ ملیکہ بخاری کو بھی عدالت نے رہا کیا، لیکن انہیں پھر گرفتارکر لیا گیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں آؤٹ آف دی باکس نہیں جاؤں گا۔ عدالت نے شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ شاہ محمود قریشی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کوکالعدم قرار دے دیا۔

شہریار آفریدی کی اہلیہ کی رہائی کا حکم

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہریار آفریدی اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب آپ کی حدودمیں کیا ہو رہا ہے، آپ قانون سے واقف ہیں یا نہیں؟

آئی جی نے موقف پیش کیا کہ ملزمان جی ایچ کیوحملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کون سی سورس آف انفارمیشن پر آپ نے ان لوگوں کو اٹھایا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈی سی صاحب کو فوری بلائیں، پانچ منٹ میں پیش نہ ہوئے تو مسئلہ ہو گا، ڈی سی کہاں ہیں؟۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی سی صاحب پہنچ رہے ہیں۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا عدالت ڈی سی کاانتظار کرے گی، عدالت ڈی سی کا انتظار نہیں کرے گی۔اہلیہ شہریار آفریدی کے وکیل نے عدالت کو کہا کہ ہم بیان حلفی دے دیتے ہیں، انہیں رہا کریں۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیگل ٹیم سے مشورہ کر کے کارروائی کیا کریں، آئی جی صاحب ایک خاتون خانہ کو اٹھایا گیا ہے، اس لئے آپ کو گڈ ٹو سی یو نہیں کہہ سکتے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تھانہ آبپارہ اور انڈسٹریل ایریا میں مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی صاحب کو ہم جانے دیتے ہیں، ہماری عدالت سے رہائی کے بعد کسی کو گرفتار کیا تو بہت مسئلہ ہو گا، حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو سخت نتائج ہوں گے۔ عدالت نے شہریار آفریدی کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں