زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ تک 2 ارب ڈالر سے کم ہو جائیں گے: مفتاح اسمٰعیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں برس ستمبر تک زرِ مبادلہ ذخائر 2 ارب ڈالرز سے کم ہو جائیں گے۔

کراچی میں جرمنی کے قونصل خانے میں کاروباری برادری سے خطاب کے دوران سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ زرِ مبادلہ ذخائر 2 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک گر جائیں گے جبکہ موجودہ سیاسی بحران پرانی کساد بازاری جیسا نہیں۔ معاشی محاذ پر پاکستان کا آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالرز کا قرض پروگرام کئی ماہ سے معطل ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر کی سطح 4 ارب 40 کروڑ ڈالرز تک آ چکی ہے۔

سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان 3 ارب 70 کروڑ ڈالرز قرض کی ادائیگی اور 40 کروڑ ڈالر کا سود 2 ماہ کے اندر اندر ادا کرے گا۔ دیگر الفاظ میں بیرونی قرض کی دائیگی کیلئے 4 ارب 10 کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 4 ارب 10 کروڑ ڈالرز میں سے 1 ارب ڈالرز کی ادائیگی چین کے مرکزی بینک کے محفوظ ڈپازٹس میں سے کی جائے گی۔ اس طرح کل 3 ارب 10 کروڑ ڈالرز خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2 چینی بینکوں سے 1 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا قرض لیا۔ اس میں بھی توسیع کی توقع ہے تاہم یہ عمل کچھ وقت کا متقاضی ہے۔ چین کو چیک بھیجا جاتا ہے، وہ 1 ماہ تک رقم اپنے پاس رکھتا ہے اور پھر قرض میں توسیع کرتا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ ملکی قرضے بھی خاص طور پر غیر معمولی بُلند شرح سود کی وجہ سے کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں، انہوں نے صوبوں پر تنقید کی کہ وہ رئیل اسٹیٹ، زراعت اور خدمات پر ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھانے میں کم دلچپسی دکھاتے ہیں۔

جس کے نتیجے میں صوبے 75 کھرب کے سالانہ وفاقی ٹیکس محصولات میں سے 45 کھرب روپے کھا جاتے ہیں، حتی کہ اگر وفاقی حکومت نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 15 کھرب اکٹھا کر لیتی ہے پھر بھی اسلام آباد کے پاس صرف 45 کھرب روپے بچتے ہیں، یہ رقم مالیاتی کھاتے کو توازن میں رکھنے کے لیے ناکافی کیونکہ قرض کی سالانہ ادائیگی 60 کھرب تک پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو سود ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑے تو آپ قرض کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

مفتاح اسمعیٰل نے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا کہ کو ملک بھر کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے، امریکی ماہر اقتصادیات چارلس ٹائی باؤٹ کے اس دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ لوگ ان شہروں اور اضلاع سے ہٹ کر ’ان اضلاع میں جاتے ہیں’ جہاں ٹیکس کی شرح مناسب اور بہتر سہولیات پیش کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ تین درجن صوبوں کے درمیان مقابلہ گورننس میں بڑی بہتری لائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصل جنرل ڈاکٹر رُودی گر لوٹز [Dr Rüdiger Lotz] نے کہا کہ معاشی صورتحال سے لڑنے کے لیے پاکستان میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں