سپریم کورٹ کا مولانا ہدایت الرحمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سپریم کورٹ نے گوادر حق دو تحریک کے سربراہ ہدایت الرحمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہرپر مشتمل تین رکنی بینچ نے “گوادر کو حق دو تحریک”کے سربراہ اور جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل ہدایت الرحمان بلوچ کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

عدالت عظمیٰ نے ہدایت الرحمان کو 3 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔ ہدایت الرحمان کی ضمانت پہلے مقامی عدالت اور بعد ازاں بلوچستان ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی۔

جماعت اسلامی کی قیادت نے سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کے توسط سے ہدایت الرحمان کی ضمانت بعد از گرفتاری سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔ دوران سماعت وکیل کامران مرتضی کادلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہدایت الرحمان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا۔

اس پر جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ احاطہ عدالت سے گرفتاری کو چیلنج کیوں نہیں کیا۔ اس پر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس وقت سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہیں آیا تھا کی عدالتی احاطہ سے گرفتاری غیر قانونی ہو گی، یہ اصول سپریم کورٹ نے عمران خان گرفتاری کیس میں طے کیا، عدالت نے عمران خان گرفتاری غیر قانونی اور انھیں اپنے حفاظت میں بھی رکھا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مولانا ہدایت الرحمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی اور انہیں تین لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے گذشتہ سماعت صوبائی پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان، شکایت کنندہ اور مقتول پولیس اہلکار کے لواحقین کو نوٹسز جاری کے جواب طلب کیا تھا۔

حق دو تحریک کے رہنما کی گرفتاری کے بعد مقامی افراد نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا تھا@MHidayatRehman
حق دو تحریک کے رہنما کی گرفتاری کے بعد مقامی افراد نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا تھا@MHidayatRehman

ہدایت الرحمان حق دو گوادر تحریک کے سربراہ ہیں، وہ کئی بار حکومتی پالیسیوں پر دھرنا دے چکے ہیں، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

حق دو گوادر تحریک نے گوادر کے پانیوں میں بڑے ٹریلرز کے شکار کرنے پر پابندی سمیت کئی مطالبات حکومت کے سامنے رکھے تھے۔

صوبائی حکومت اور حق دو گوادر تحریک کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو سٹی تھانہ گوادرمیں مولانا ہدایت الرحمان سمیت دیگر ساتھیوں پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر الزام لگایا گیا کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کے شرکاء کو اشتعال دلایا اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ کروا کر لوگوں کو زخمی کیا۔ ہدایت الرحمان پر دوران احتجاج ایک پولیس اہلکار کو قتل کروانے کا بھی الزام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں