اپنے ساتھیوں سے کہیں ہمارے دروازے پر اتنی سخت باتیں نہ کریں: چیف جسٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی سُپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل منصور عثمان سے کہا ہے کہ عدالت کے گیٹ اور بڑے ایوان (پارلیمنٹ) میں ججز کے حوالے سے سخت گفتگو نہ کی جائے۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کے حکم نامے پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت ہوئی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ روز کچھ ریمارکس سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی یہ بات درست نہیں کہ الیکشن کمیشن کے اٹھائے گئے نکات پہلے کیوں عدالت میں نہیں اٹھائے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق دوسرا نکتہ تھا وفاقی حکومت پہلے چار تین ججز کے فیصلے کے چکر میں پڑی رہی۔

اٹارنی جنرل کے مطابق یہ نکات اٹھائے گئے تھے اور بتایا تھا کہ ایک صوبے میں انتخابات ہوں تو قومی اسمبلی کا الیکشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپنے جواب میں 4/3 کے فیصلہ ہونے کا ذکر بھی کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے، عدالت آپ کو سننے کے لیے بیٹھی ہے، کوئی معقول نقطہ اٹھایا گیا تو جائزہ لے کر فیصلہ بھی کریں گے، اصل مقدمے میں عدالت میں شاید تحریری طور پر نقطہ اٹھایا گیا لیکن اس پر بحث نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل نظر ثانی کے دائرہ اختیار پر بات ہوئی تھی، ماضی کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی نہیں اللہ کی رضا کے لیے بیٹھے ہیں، بہت سی قربانیاں دے کر یہاں بیٹھے ہیں۔


چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ اپنے ساتھیوں سے کہیں کہ ہمارے دروازے پر ایسی باتیں نہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایوان میں گفتگو بھی سخت نہ کیا کریں ، ہم اللہ کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے چپ بیٹھے ہیں، جس ہستی کا کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنا کام کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صفائیاں نہ دیں عدالت میں قلب سلیم کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ باہر جانے والے تاثر کے بعد معاملہ کھولنا چاہتے ہیں کہ اصل مقدمے میں یہ نکات اُٹھائے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ باہر جانے والی باتوں کی پرواہ نہ کریں ہمارے بارے میں بھی کی جاتیں ہیں کہ مرسڈیز بھیجی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں