9 مئی واقعات: تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا جائزہ لیا جا رہا ہے: خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا جائزہ لیا جا رہا ہےاور اگر اس ضمن میں کوئی فیصلہ ہوا تو پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں بدھ کو میڈیاکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں پر جو پابندیاں لگیں وہ جائز نہیں تھیں ان کے پیچھے سیاسی مقاصد تھے لیکن عمران خان کی جماعت اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

حکومت عمران خان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکی لیکن عمران خان کے اقدامات کی وجہ سے انہیں اور ان کی جماعت کو نقصان ہو رہا ہے۔

ملک میں جاری سیاسی افراتفری پر کسی بیرونی دباؤ سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت پر کوئی بیرونی دباؤ نہیں ہے، ہمیں اپنے مفادات کا خود تحفظ کرنا ہے۔

خواجہ آصف کا بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب تحریکِ انصاف کے کئی رہنما پارٹی سے علاحدگی اختیار کر چکے ہیں۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ عمران خان نے اقتدار کی جنگ میں افواج کو فریق بنا دیا ہے اور انہوں نے جو جوا کھیلا وہ ہار گئے ہیں اور اب حیلے بہانے کر کے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا، جبکہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

خواجہ آصف کے بقول، عسکری تنصیبات پر حملہ عمران خان کا آخری حربہ تھا، نو مئی کے واقعات اچانک نہیں ہوئے اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور ایسا کون سا جرم تھا جو اس روز نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ تجاویز آئی ہیں کہ عمران خان ملک سے باہر چلے جائیں اور معاملات کو ٹھیک کر لیا جائے۔

خواجہ آصف کے مطابق سیاسی جماعتوں کی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں ملک میں مارشل لا کا کوئی امکان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ" نواز شریف کو اقتدار سے الگ کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، بے نظیر بھٹو شہید کر دی گئیں لیکن کسی نے کبھی کنٹونمنٹ پر حملے کا نہیں سوچا۔ لوگ اپنے شہدا کی عزت کرتے ہیں اور آج بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے خاندانوں کی تکریم کی جاتی ہے۔ عمران خان نامی شخص نے آج تک صاف الفاظ میں نو مئی کے واقعات کی مذمت نہیں کی۔"

ان کے بقول، عمران خان نے بار بار بیان دیا کہ ردِ عمل ہونا تھا اور اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو دوبارہ ردِ عمل آسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں