سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ اڈرز ایکٹ 2023 قانون بن گیا

آڈیو لیکس پر تحقیقات کرانی ہیں تو طریقہ کار سے آئیں، خود کمیشن بنا دوں گا: چیف جسٹس آف پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ اڈرز ایکٹ 2023 قانون بن گیا۔ نواز شریف اور جہانگیر ترین نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر سکیں گے۔ آرٹیکل 184/3 کے تحت دیئے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ہو گا۔

پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرِثانی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور احکامات پر نظرِ ثانی کا بل قانون بن چکا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے دائر نظرِ ثانی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، صدر مملکت کی منظوری کے بعد نظرثانی قانون بن چکا ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ نظر ثانی ایکٹ کی شق دو میں آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دے دیا گیا ہے. اس قانون سازی کا اطلاق ماضی سے بھی ہو گا۔

سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ 2023 قانون بن گیا۔ صدر پاکستان عارف علوی نے قانون سازی میں حکومت کی مدد کی اور دستخط بھی کیے.قانونی ماہرین کے مطابق نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی اپیل دائر کر سکیں گے.

اٹارنی جنرل کے بیان پر جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سجیل سواتی صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ عدالت کا ذہن کسی قانون کو ختم کرنے کا نہیں، صرف عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے میمو گیٹ کمیشن، ایبٹ آباد کمیشن اور سلیم شہزاد کمیشن کے نوٹیفکیشن دیے، ہر کمیشن میں چیف جسٹس نے نامزدگیاں کیں یا اجازت دی، چیف جسٹس کی منظوری کے بعد کمیشن کے نوٹیفکیشن جاری ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت عدالتی روایات کو ختم نہ کرے، اٹارنی جنرل ان ایشوز میں پل کا کردار ادا کریں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ میں نے خود کو کمیشن کے لیے نامزد نہیں کرنا تھا، آئین کے تحت تمام اداروں کو احترام دیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافہ معیشت کے لیے اچھا نہیں، اٹارنی جنرل صاحب مناسب طریقہ اپنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب کو ان معاملات پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت میں تحریک انصاف نے اپنا جواب جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے۔

تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کی تھی اور کہا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائے جاسکتے، الیکشن کمیشن نظرثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو فیصلہ سناتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم 14 مئی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا تھا۔

21 ارب روپے کی عدم فراہمی عدالتی حکم پر وفاق اور الیکشن کمیشن عملدرآمد نہ کرسکے، اس کے بعد 3 مئی کو الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں