ریاست مخالف بغاوت کے ماسٹر مائنڈز کے گرد قانون کا شِکَنجہ کسنے کا وقت آگیا: پاک فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی اور سیاسی بنیادوں پر بغاوت برپا کرنے والے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کے گرد ’قانون کا شِکَنجہ‘ کسا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اتفاق رائے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں بدھ کو 81 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں کیا گیا ہے۔

فارمیشن کمانڈرز کانفرنس فوج کے بڑے فورمز میں سے ایک ہے اور بالعموم تنظیمی امور کے علاوہ حکمت عملی، آپریشنل اور تربیتی امور پر تبادلہ خیال کے لیے اس کے سالانہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔کانفرنس کی صدارت آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کی۔اس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف افسروں اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈروں نے شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فورم مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور جوانوں اور سول سوسائٹی سمیت تمام شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنہوں نے ملک کی حفاظت، سلامتی اور وقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست پاکستان اور مسلح افواج شہداء اور ان کے اہل خانہ کا ہمیشہ احترام کرتی رہیں گی اور ان کی عزت کرتی رہیں گی۔کانفرنس کے شرکاء کو موجودہ ماحول، داخلی اور خارجی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کی قومی ذمہ داریوں پر کاربند رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہمارے تمام منصوبوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور رہے گا اور 25 مئی کے واقعات اس کا واضح اظہار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کے ذریعے سماجی تقسیم اور الجھن پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن قوم کی مکمل حمایت سے ان شاء اللہ ایسے تمام عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

کانفرنس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پر حراست میں تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کے بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور معمولی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

اعلامیے کے مطابق فورم 9 مئی کے یوم سیاہ کے واقعات کی مذمت کرتا ہے اور اپنے اس پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ شہداء کی یادگاروں،جناح ہاؤس اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اس میں واضح کیا گا ہے کہ اس سلسلے میں انسانی حقوق کی فرضی اور مکروہ خلاف ورزیوں کے پیچھے پناہ لینے کی کوششیں بالکل بے کار ہیں اور اس میں ملوث تمام افراد کے بدصورت چہروں کو چھپانے کے لیے دھواں پیدا کرنے کی کوششیں بالکل بے سود ہیں اور یہ ناقابل تردید شواہد سے لگا نہیں کھاتی ہیں۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ مجرموں اور جرم پراکسانے والوں کے خلاف قانونی مقدمات کا آغاز ہوچکا ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کے گرد بھی قانون کا شکنجہ کسا کیا جائے جنھوں نے ملک میں افراتفری پھیلانے کے اپنے مذموم عزائم کو حاصل کرنے کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی اور سیاسی بنیادوں پر بغاوت کی۔

کانفرنس نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کسی بھی طبقے کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے اور دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کی حتمی شکست کو روکنے کی کوششوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے آپریشنز کے دوران میں پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین کارکردگی کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔انھوں نے اپنے جوانوں کی فلاح و بہبود اور حوصلہ افزائی پر مسلسل توجہ دینے پر پاک فوج کے کمانڈروں کی تعریف کی اور کہا کہ وہ مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں کی بنیاد ہیں۔فورم کے اختتام پر پاکستان کے غیور عوام کی مستقل حمایت کے ساتھ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام ضروری قربانیاں دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں