خیبر پختونخوا: شدید آندھی اور طوفانی بارش سے 28 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں طوفان اور بارشوں کے باعث ہونے والے حادثات میں 28 افراد جاں بحق جبکہ 115 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے 10 افراد زخمی ہو گئے۔

خیبرپختونخوا کے اضلاع میں طوفانی بارشوں اور آندھی کے دوران دیورا گرنے سمیت مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہو گئی جبکہ مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بنوں میں 12، لکی مروت 3 اور کرک میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق آندھی اور طوفان کے باعث 60 افراد زخمی ہوئے، بیشتر حادثات، چھتیں اور دیواریں منہدم ہونے کے باعث پیش آئے۔

حکام کے مطابق صورت حال کے پیش نظر تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔جاں بحق اور زخمیوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔تیز بارش اور ندی نالوں میں طغیانی کے سبب گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں جبکہ بجلی منقطع ہو گئی ہے۔

لکی مروت میں طوفانی بارشوں کے باعث دیواریں گرنے کے واقعات میں تین بچے اور ایک خاتون سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 26 زخمیوں کو تحصیل اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اُدھر سوات کے علاقے مینگورہ شہر اور گرد ونواح میں تیز بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی ہوئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے بارشوں کے باعث ہونے والے جانی ومالی نقصانات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کیلیے صبر کی دعا کی جبکہ لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے چیف سیکرٹری اور متعلقہ ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کی۔

سمندری طوفان کا خطرہ

دوسری جانب پاکستان کے محکمہ موسمیات نے ہفتہ کو سندھ اور بلوچستان کے صوبائی حکام کو خبردار کیا ہے کہ بحیرہ عرب کے اوپر گذشتہ 12 گھنٹوں کے دوران ایک ’انتہائی شدید سمندری طوفان‘ شدت اختیار کر گیا ہے جو پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی سے تقریباً 910 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’’بائپر جوائے‘‘ نامی سمندری طوفان کی لہریں تقریباً 28 فٹ تک بلند ہو رہی ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ مچھیرے 11 جون سے تب تک کھلے سمندر میں جانے سے گریز گریں جب تک یہ صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔ اس کے علاوہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ 13 جون سے سندھ مکران ساحل پر تیز ہواؤں اور بارشوں کا بھی امکان ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مختلف بین الاقوامی موسمیاتی ماڈلز اور جوائنٹ ٹائفون وارننگ سینٹر کے مطابق سائیکلون’بائی پرجوائے‘ اس وقت 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمالی بحر ہند میں موجود ہے اور اگلے 24 گھنٹوں تک اس کی رفتار برقرار رہنے کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق ’بائپر جوائے سائیکلون‘ کراچی سے تقریباً 910 کلومیٹر اور ٹھٹھہ سے 890 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے اور اپنے مرکز میں 150کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بیان کے مطابق ممکنہ طور پر ساحلی علاقے تیز آندھی، سمندری طوفان اور سیلاب کے زد میں آ سکتے ہیں۔‘ این ڈی ایم اے کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی سینٹر میں بین الاقوامی ماڈلز کے ذریعے بائپر جوائے کی پیش رفت پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ موسمیاتی حالات سے آگاہ رہیں اور ساحلوں سے دور رہیں جبکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مقامی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں