بائپر جوائے سمندری طوفان کراچی سے 760 کلومیٹر دور، سندھ کی ساحلی پٹی میں وارننگ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بحیرہ عرب میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’بائپرجوائے‘ کے پیش نظر ملک کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ’انتہائی شدید‘ بارشوں کا انتباہ جاری کیا ہے جبکہ طوفان مسلسل پاکستان کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے بیان کے مطابق بحیرہ عرب، جو پاکستان کی جنوبی ساحلی پٹی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، میں رواں ہفتے سمندر کے اوپر ہوا کا شدید کم دباؤ انتہائی شدید طوفان ’بائپر جوائے‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق امکان ہے کہ یہ سسٹم شمال کی جانب بڑھتا رہے گا، اس کے مرکز کے گرد ہوائیں زیادہ سے زیادہ 140 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں اور لہروں کی اونچائی زیادہ سے زیادہ 30 سے 40 فٹ ہے اور سمندری حالات غیر معمولی ہیں۔

بحیرہ عرب میں موجود انتہائی شدید سمندری طوفان ’بائپر جوائے‘ مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور اس وقت کراچی کے جنوب سے تقریباً 760 کلومیٹر، ٹھٹھہ کے جنوب سے 740 کلومیٹر اور اورماڑہ کے جنوب مشرق سے 840 کلومیٹر دور موجود ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے لوگوں کو سمندری طوفان کے پیش نظر ساحل سمندر سے دور رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

سمندر میں بننے والے طوفان کے لیے بنگلہ دیش نے بائپر جوائے کا نام تجویز کیا ہے۔ طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر کمشنر کراچی اقبال میمن نے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے، کشتی رانی، تیراکی اور نہانے پر آج سے لے کر طوفان کے خاتمے تک کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ طوفان 14 جون کو شمال مشرق کی جانب مڑ کر کیٹی بندر (جنوب مشرقی سندھ) اور بھارتی گجرات کے ساحل کے درمیان سے گزرے گا، اتوار (آج) اور پیر کی سہ پہر کو ملک کے وسطی/جنوبی اضلاع میں آندھی/تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

دریں اثنا محکمہ موسمیات نے پیسیفک ڈیزاسٹر سینٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار افراد اس طوفان سے خطرہ ہے۔

پی ڈی سی کی ویب گاہ کے مطابق یہ سسٹم 72 گھنٹوں تک شمال کی سمت بڑھنے کی پیش گوئی ہے، جس کے بعد اس کے مشرق کی جانب مُڑنے کا امکان ہے جبکہ کچھ اثرات مغرب کی جانب منتقل ہونے کا امکان اب بھی موجود ہے۔

زوم ارتھ‘ کے لائیو ریڈار کے مطابق اس سسٹم کے متوقع ٹریک میں معمولی تبدیلی نمایاں ہوئی ہیں، گذشتہ روز اس کے پاکستان کے ساحلی شہروں کی جانب بڑھنے کی پیشین گوئی تھی تاہم آج یہ سمندری طوفان بھارتی ساحلی پٹی کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، تاہم سندھ کی ساحلی پٹی کا بڑا حصہ تاحال اس حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں