مذاکرات آرمی چیف سے، سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں: عمران خان

پارٹی چھوڑ کر جانے والے لوگوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ہر کسی کی برداشت کا پیمانہ ہوتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف سے مذاکرات اس لیے چاہتے ہیں کہ حکومت اور سیاست دانوں کے ساتھ بات چیت کا فائدہ نہیں۔

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان سے سوال کیا گیا کہ ن لیگ نے واضح کہا ہے کہ مذاکرات وزیر اعظم شہباز شریف سے ہوں سے آپ کیوں اسٹیبلشمنٹ کو بیچ میں لاتے ہیں؟

تحریک انصاف کے چیئرمین نے جواب دیا ’’کہ اصل طاقت اور فیصلہ ساز تو اسٹیبلشمنٹ ہے نا۔‘‘ اُن سے پوچھا گیا کہ آصف علی زرداری نے تو کہا تھا کہ اکانومی کے چارٹر پر مل کر بیٹھنا ہو گا، آپ کیوں نہ گئے؟ عمران خان کا جواب تھا کہ ’’ان حکمرانوں کے پاس کچھ اختیار ہی نہیں، ان کے ساتھ کیا بیٹھوں۔‘‘

ایک رپورٹر نے پوچھا کہ سیاستدانوں نے خود مل کر ہی تو جمہوری دستاویزات پر دستخط کیے آپ کیوں بات کرنا پسند نہیں کرتے؟ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے جواب میں کہا کہ فیصلہ ساز تو وہ ہیں نا ان کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں۔

اُن سے سوال کیا گیا کہ سیاستدانوں کے درمیان ہی تو چارٹر آف ڈیموکریسی ہوا تھا؟ تو عمران خان نے جواب دیا کہ اب صورتحال مختلف ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے، ڈالر میں آمدنی کم ہوئی ہے قرضے بڑھ گئے ہیں۔ مجھے سے یہ سمجھ نہیں آرہی یہ پیسہ کہاں سےلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ساری پالیسی سارے اداروں کا ایک ایجنڈا ہے عمران خان کو باہر کرنا، چیلنج کرتا ہوں صحافی خود جا کے میری بہنوں کی زمین دیکھ لیں اس کی قمیت کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پلان تو واضح ہو گیا کہ یہ ایک نئی پارٹی بن گئی، نون لیگ پر بڑا افسوس ہو رہا ہے کہ ان کی سیٹیں تو کم ہو جائیں گی۔ پی ڈی ایم کا ووٹ بنک کم ہے اس لیے یہ الیکشن میں نہیں جا رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان جیل میں بھی چلا جائے تب بھی پارٹی جیتے گی، کسی کو وہ نہیں پتہ جو مجھے پتہ ہے۔ شکر ہے ہمیں الیکٹیبلز سے چھٹکارا مل گیا۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے کسی سے غداری نہیں کی مجھ سے غداری ہوئی ہے۔ باجوہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، میں باجوہ کو ڈی نوٹی فائی کر سکتا تھا۔

سابق وزیراعظم نے سابق آرمی چیف کے بارے میں ایک بار پھر تضحیک آمیز زبان میں کہا کہ تین دفعہ اسے خوف تھا ڈی نوٹی فائی کر دوں گا۔

عمران خان نے کہا کہ ارشد شریف کے کیس میں جے آئی ٹی سے تعاون کروں گا۔ جو مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ویگو ڈالا پہنچ جاتا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں آ گیا تو عمران خان بدلہ لے گا، ہم نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں، انہوں نے سب کو معاف کیا۔ میں ذات کے لیے نہیں، میں رول آف لاء قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ میری بہن کے بیٹے کو پکڑنے کے لیے آئے، خانسامے اور ڈرائیور کو اٹھا لیا، خانسامہ اب آئی سی یو میں ہے۔ یہ سب وہ کر رہے ہیں جن کو پتہ ہے ان کو کوئی پکڑے گا نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میرے دور میں میری پارٹی میں لوگوں کو لایا گیا، یہ بات بلکل غلط ہے۔

عمران خان نے کہا کہ رانا ثناء اللہ پر اے این ایف کا کیس تھا، میجر جنرل اس کے سربراہ تھے، ہم نے میجر جنرل کو کابینہ میں بلایا اور اس نے کابینہ کو بریفنگ دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے رانا ثنا اللہ کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارا کارکن اب بھی کھڑا ہے، میاں محمود الرشید ڈٹا ہوا ہے، میاں محمود الرشید نے آ کر بتایا کہ اس کو آئی ایس آئی نے ٹارچر کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری، یہ سب لوگ کھڑے ہیں۔ کس کو فائدہ ہوا ہے 9 مئی سے، آخر کسی کو تو فائدہ ہوا ہے ناں؟ جس کو سب سے زیادہ 9 مئی سے فائدہ ہوا وہی 9 مئی کے واقعہ میں ملوث تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف کے مطابق وہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے لوگوں پر کمنٹ نہیں کرنا چاہتے، ہر کسی کی برداشت کا پیمانہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو حالات ہیں میں نے مارشل لا میں ایسے حالات نہیں دیکھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں