پاکستان نے چینی کرنسی میں روس سے سستا خام تیل خرید کیا: وفاقی وزیر

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ابتدائی طور پر روس سے درآمدہ خام تیل کو صاف کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے چینی کرنسی یوآن میں روس سے سستے خام تیل کی خریداری کی ہے۔ یہ ملک کی امریکی ڈالر کے غلبے والی برآمدی ادائیوں کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ہے۔

اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان رواں سال کے اوائل میں طے شدہ بین الحکومتی معاہدے کے تحت روس سے رعایتی خام تیل کا پہلا جہاز اتوار کو جنوبی شہر کراچی پہنچا تھا اوراسے بندرگاہ پر اتارا جا رہا ہے۔

وزیرمملکت مصدق ملک نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز سے فون پر بات کرتے ہوئے معاہدے کی تجارتی تفصیل ظاہر نہیں کیں، جس میں قیمت یا پاکستان کو ملنے والی رعایت بھی شامل ہے، لیکن بتایا کہ روس کو رقم کی ادائی چینی کرنسی میں کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ پاکستان کا یہ پہلا بین الحکومت (جی ٹو جی) معاہدہ تھا۔اس کے تحت پاکستان نے روس سے ایک لاکھ ٹن خام تیل خرید کیا تھا۔اس میں سے 45 ہزار ٹن خام تیل کراچی کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہے جبکہ باقی راستے میں ہے۔ پاکستان نے روس سے یہ خریداری اپریل میں کی تھی۔

پاکستان کی خریداری سے ماسکو کو بھارت اور چین کے علاوہ تیل کی فروخت میں اضافہ کرنے کا ایک نیا موقع مل گیا ہے کیونکہ وہ یوکرین تنازع کی وجہ سے مغرب کی پابندیوں کے پیش نظر اب اپنے تیل کا رُخ دوسری منڈیوں کی طرف موڑ رہا ہے اور پاکستان سے پہلے چین اور بھارت اس سے تیل کے بڑے خریدار بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کا معاہدہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کے لیے ایک نیا راستہ بھی پیش کرتا ہے جب اس کی مالی ضروریات بہت زیادہ ہیں حالانکہ روایتی طور پر مغرب کا ایک دیرینہ اتحادی سمجھاجاتا ہے اور ماسکو کے قریب سمجھے جانے والے ہمسایہ ملک بھارت کا روایتی حریف ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) ابتدائی طور پر روس سے درآمدہ خام تیل کو صاف کرے گی۔ انھوں نے روس سے شپمنٹ کی خریداری سے قبل اس کے مالی اور تکنیکی طور پرقابل عمل ہونے کے بارے میں آزمائشی جانچ کا حوالہ دیا تھا۔

انھوں نے مالیاتی افادیت اور مقامی ریفائنریوں کی روسی خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت کے بارے میں خدشات کو مسترد کردیا کیونکہ پاکستان تاریخی طور پر مشرق اوسط کے ممالک سے پیٹرولیم مصنوعات کو درآمد کرتا رہا ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ ’’ہم نے مختلف مصنوعات کے آمیزے کو دوبارہ چلایا ہے، اور کسی بھی صورت میں اس خام تیل کو صاف کرنے کے عمل میں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ تجارتی طور پر قابلِ عمل ہوگا‘‘۔

انھوں نے واضح کیا کہ ’’روسی خام تیل کو صاف کرنے کے لیے ریفائنری میں کسی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ توانائی کی درآمدات پر اٹھ جاتا ہے۔ تجزیاتی فرم کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2022 میں ایک لاکھ 54 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا تھا اور اس نےاس سے پیوستہ سال کے مقابلے میں درآمدات برقرار رکھی تھیں۔

پاکستان بنیادی طورپر دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب سے خام تیل کی زیادہ مقدار درآمد کرتا ہے۔اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے تیل خرید کرتا ہے۔ نظری طور پر روس سے ملنے والا ایک لاکھ بیرل یومیہ تیل پاکستان کی مشرق اوسط سے وابستہ ایندھن کی ضروریات کو بہت کم کردے گا۔

روس سے رعایتی خام تیل کی درآمد سے پاکستان پر مالی دباؤ میں بھی کمی واقع ہوگی کیونکہ اس کو اس وقت ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کا سامنا ہے اور اس کو اپنے بیرونی قرضوں کی ادائی میں ناکامی کا خطرہ ہے۔ مرکزی بینک دولت پاکستان کے پاس موجود زرِمبادلہ کے ذخائر چار ہفتوں کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے شاید ہی کافی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں